ترقیاتی مقامات پر حفاظتی شیٹیں لگانے، تعمیراتی سامان محفوظ جگہ پر رکھنے کے احکامات نظرانداز،ٹریفک جام رہنا معمول
لاہور (خصوصی رپورٹ)وزیراعلیٰ پنجاب کے فلیگ شپ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام میں واسا کی مبینہ غفلت نے سوالات کھڑے کر دیے۔سیکرٹری ہائوسنگ کے واضح احکامات کے باوجود ترقیاتی کاموں پر حفاظتی اقدامات نظر انداز کر دیے گئے۔علامہ اقبال ٹائون میں مین ہول کھلے، ڈھکن ٹوٹے اور تعمیراتی سامان سڑکوں پر پھینک دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سیکرٹری ہائوسنگ نورالامین مینگل نے واضح احکامات جاری کیے تھے کہ ترقیاتی مقامات پر حفاظتی شیٹیں لگائی جائیں، تعمیراتی سامان محفوظ جگہ پر رکھا جائے اور شہریوں کے لیے تمام تر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں، لیکن واسا علامہ اقبال ٹائون ڈائریکٹوریٹ نے ان ہدایات کو ہوا میں اڑا دیا۔مین بلیوارڈ علامہ اقبال ٹائون پر کھلے مین ہول شہریوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، کئی جگہوں پر ڈھکن ٹوٹ چکے ہیں، جبکہ بجری، ریت، سیمنٹ اور پتھر سڑک کے بیچوں بیچ پھینک دیے گئے ہیں جس سے ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ جہان زیب بلاک کی گلیاں کھود کر ادھوری چھوڑ دی گئیں، مون سون گزرنے کے باوجود ترقیاتی کام مکمل نہ ہو سکے اور شہری اذیت میں مبتلا ہیں۔ اس سے قبل خیابان فردوسی پر بھی سیوریج لائن ڈالنے کے دوران حفاظتی شیٹیں نہیں لگائی گئی تھیں، جس پر سیکرٹری ہائوسنگ نے نوٹس لیا اور واسا حکام کی سرزنش بھی کی تھی، لیکن یہ سرزنش بھی بے اثر ثابت ہوئی۔ادھر کھلے مین ہولز اور ٹوٹے ڈھکن بچوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے موت کے کنویں ثابت ہو سکتے ہیں۔ ترقیاتی سامان سڑکوں پر ڈال کر شہری آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں مفلوج کر دی گئی ہیں۔ عوامی فنڈز سے بننے والا لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام غفلت اور بدنظمی کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔