بھارت میں مودی سرکار کی فسطائیت اور ہندوتوا نظریات نہ صرف ملک کے سیکولر تشخص کو مسخ کر رہے ہیں بلکہ اقلیتوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز کر رہے ہیں۔
خاص طور پر سکھ برادری کو ریاستی جبر، دباؤ اور امتیازی پالیسیوں کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں خالصتان تحریک مزید زور پکڑ رہی ہے۔
خالصتان ریفرنڈم کا نیا اعلان
سکھ فار جسٹس (SFJ) تحریک کے کوآرڈینیٹر اندریجیت سنگھ گوسل نے اعلان کیا ہے کہ اگلا خالصتان ریفرنڈم کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں 23 نومبر 2025 کو ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ جنرل کونسلر گرپتونت سنگھ پنوں کی حمایت کے لیے کھڑے ہیں اور بھارت کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔
گوسل کے مطابق یہ ریفرنڈم دنیا بھر کے سکھوں کی رائے کو سامنے لانے کا ایک جمہوری ذریعہ ہوگا۔
گرپتونت سنگھ پنوں کا سخت پیغام
پنوں نے مودی سرکار پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارتی حکومت اندریجیت سنگھ کو جھوٹے ہتھیاروں کے کیس میں پھنسانے کی سازش کر رہی ہے۔انہوں نے واضح اعلان کیا کہ اوٹاوا ریفرنڈم ہر حال میں ہوگا اور ہزاروں سکھ اس میں ووٹ ڈالیں گے۔بھارتی حکومت کو للکارتے ہوئے انہوں نے کہا:"اگر ہمت ہے تو کینیڈا، امریکا یا یورپ میں آ کر گرفتاری کر کے دکھاؤ۔"مزید براہِ راست بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:"اجیت دوول! تمہارا سمن تیار ہے اور میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔"
بھارتی پالیسیوں پر الزامات
سکھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ:بھارت بیرون ملک مقیم سکھوں کو نشانہ بنانے کے لیے خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے نیٹ ورکس استعمال کر رہا ہے۔تاہم اب یہ ریاستی دباؤ اور "ریاستی دہشت گردی" سکھوں کو مزید متحد کر رہی ہے۔ان کے مطابق خالصتان کا قیام اب دنیا بھر کے سکھوں کی آواز اور جدوجہد کا مرکز بن چکا ہے۔
عالمی تناظر
سکھ فار جسٹس تنظیم اس سے قبل بھی مختلف ممالک (کینیڈا، برطانیہ، اٹلی، امریکا، آسٹریلیا) میں ریفرنڈمز منعقد کر چکی ہے۔ بھارت ان تمام سرگرمیوں کو اپنی سلامتی اور سالمیت کے خلاف سازش قرار دیتا ہے، جبکہ سکھ رہنما انہیں ایک سیاسی و جمہوری جدوجہد کا حصہ کہتے ہیں۔