سلامتی کونسل میں قرارداد ناکام، ایران پر پابندیاں دوبارہ نافذ

سلامتی کونسل میں قرارداد ناکام، ایران پر پابندیاں دوبارہ نافذ

عالمی سیاست میں ایک نہایت اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ (JCPOA) دوبارہ شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:

پس منظر
2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں (P5+1: امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی) کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر قدغن لگانے پر رضامندی ظاہر کی اور بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی گئی۔ تاہم 2018 میں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری اختیار کر لی تھی جس سے معاملات کشیدہ ہوگئے۔

سلامتی کونسل کا اجلاس
اجلاس میں چین اور روس نے ایک مشترکہ قرارداد پیش کی تاکہ ایران کو دی گئی رعایتوں میں توسیع کی جا سکے۔15 رکنی سلامتی کونسل میں سے 9 ارکان نے مخالفت، 4 نے حمایت جبکہ 2 اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔نتیجتاً قرارداد منظور نہ ہو سکی اور ایران پر عائد تمام معطل شدہ پابندیاں دوبارہ نافذ ہوگئیں۔
بڑی طاقتوں کے مؤقف
روس: نائب مستقل مندوب دیمتری پولیانسکی نے کہا کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں "غیر قانونی اور ناقابلِ عمل" ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ یورپی ممالک دراصل اس معاہدے کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔
چین: چین نے بھی قرارداد کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا اور اسے سفارتکاری کے لیے دھچکا قرار دیا۔
ایران کا ردعمل
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ان کے مطابق امریکا نے "سفارتکاری سے غداری" کی جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے "معاہدے کو دفن" کر دیا۔ایران نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو غیر قانونی قرار دے۔
ممکنہ اثرات
ایران پر دوبارہ اقتصادی اور عسکری پابندیاں سختی سے لاگو ہو جائیں گی۔خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک میں۔عالمی منڈی میں تیل و گیس کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کے امکانات ہیں۔امریکا اور یورپ کے ساتھ ایران کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں جبکہ چین اور روس ایران کے قریب آسکتے ہیں۔یہ معاملہ عالمی سطح پر طاقتوں کے درمیان تقسیم اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کا عکاس ہے، جو مستقبل میں بڑے سفارتی و اقتصادی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔