اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون سے متعلق سوالات پر دفتر خارجہ نے باضابطہ وضاحت جاری کردی۔
دفتر خارجہ کے مطابق متعلقہ خاتون پاکستان کے وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھیں اور نہ ہی انہیں سرکاری اجازت نامہ حاصل تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ شخصیت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی جانب سے دستخط شدہ سرکاری لیٹر آف کریڈنس میں شامل نہیں تھیں، لہٰذا ان کی نشست بھی وزارتِ خارجہ کی منظوری سے طے نہیں کی گئی تھی۔
وزیر دفاع کا مؤقف
قبل ازیں خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث انہوں نے سلامتی کونسل میں تقریر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے پیچھے کون بیٹھے گا، یہ دفتر خارجہ کا اختیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے ساتھ ان کا 60 سالہ جذباتی تعلق ہے اور وہ ہمیشہ سے اسرائیل اور صہیونیت کے خلاف مؤقف رکھتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ متعلقہ خاتون کون تھیں اور انہیں وہاں کیوں بٹھایا گیا، اس کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے۔