قبضہ مافیا کا خاتمہ: پنجاب میں زمینوں کی حفاظت کا نیا قانون

فاریہ ملک
پنجاب کی سیاست میں ترقیاتی منصوبے اور گڈ گورننس ہمیشہ موضوعِ بحث رہے ہیں، مگر اس بار وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ایک ایسا اقدام اٹھایا ہے جو براہِ راست عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔ زمین اور جائیداد پر قبضے کا مسئلہ برسوں سے ایک کینسر کی طرح پورے پنجاب کو کھاتا رہا ہے۔ کئی خاندان اپنی آبائی زمینوں سے محروم ہوئے، لاکھوں کیسز عدالتوں میں لٹکے رہے اور لوگوں نے برسوں انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹائے۔اب یہ صورت حال ماضی کا قصہ بننے جا رہی ہے۔ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب میں ایک نیا قانون متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت کوئی شخص یا گروہ کسی دوسرے کی زمین یا جائیداد پر قبضہ نہیں کر سکے گا۔ اس قانون کے تحت قبضہ کرنے والے افراد کو 10 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔ساتھ ہی بھاری جرمانے بھی عائد ہوں گے تاکہ کوئی بھی قبضے کی ہمت نہ کرے۔زمین اور جائیداد سے متعلق کیسز کو 90 دن کے اندر نمٹایا جائے گا، تاکہ انصاف فوری اور یقینی ہو۔یہ قانون بالکل ویسا ہی مضبوط نظام فراہم کرے گا جیسا ڈی ایچ اے  میں نظر آتا ہے، جہاں کسی بھی شہری کی پراپرٹی پر غیر قانونی قبضے کا تصور تک موجود نہیں۔اس قانون کے نفاذ کے بعد پنجاب کی سول عدالتوں اور ریونیو محکمے میں خصوصی ٹربیونلز اور فاسٹ ٹریک کورٹس قائم کی جائیں گی جو زمینوں سے متعلق کیسز پر فوری کارروائی کریں گی۔اگر کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ ہو جائے تو متاثرہ شہری کو برسوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ 90 دن میں فیصلہ آ جائے گا۔ریونیو ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے تاکہ ملکیت کے معاملات شفاف رہیں۔عدالتیں پولیس کو براہِ راست ہدایت دیں گی کہ قبضہ ختم کر کے زمین اصل مالک کے حوالے کی جائے۔یہ قانون پنجاب کے عام شہری کے لیے ایک بڑی ڈھال ثابت ہوگا۔ کسان اپنی زمین پر بلا خوف و خطر کام کر سکیں گے، اوورسیز پاکستانی اپنی جائیدادوں کو محفوظ سمجھ سکیں گے اور چھوٹے بڑے کاروباری افراد سرمایہ کاری کرنے میں اعتماد محسوس کریں گے۔پنجاب میں قبضہ مافیا ہمیشہ سے ایک طاقتور گروہ رہا ہے جو اثر و رسوخ اور تاخیری حربوں سے عوام کو تنگ کرتا رہا۔ مگر اب اس قانون کے بعد نہ صرف ان کے اثرات ختم ہوں گے بلکہ ایک ایسا نظام قائم ہوگا جہاں قانون کی حکمرانی نظر آئے گی۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مریم نواز نے پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ انصاف کے نظام کو بھی نئی بنیادوں پر استوار کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یہ قانون اگر مؤثر طریقے سے نافذ ہو گیا تو پنجاب کا ہر شہری یہ کہنے میں حق بجانب ہوگامیری زمین، میری ملکیت۔۔۔اب کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔"