میجر ریٹایرڈ الطاف احمد خان یوسفزئی
رات کے سناٹے میں ایک گھر کا دروازہ کھلتا ہے۔ ایک شخص کسی کی عیادت سے واپس آتا ہے۔ رات کے تقریباً ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہے۔ وہ گاڑی گیراج میں کھڑی کرنے لگتا ہے تو گھر کے سامنے چند کم عمر لڑکے اور ان کے ساتھ چند چھوٹی بچیاں نظر آتی ہیں۔ بظاہر ایک عام سا منظر محسوس ہوتا ہے، مگر چند لمحوں بعد جو حقیقت سامنے آتی ہے، وہ انسان کو اندر تک ہلا دیتی ہے۔لڑکے ان بچیوں کو گھیرے ہوئے تھے۔ نازیبا حرکات، گندے اشارے اور انہیں چھونے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ایک کم سن بچی کو زبردستی پکڑ کر اس کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ بچیاں خوف سے کانپ رہی تھیں۔یہ محض چند اوباش بچوں کا واقعہ نہیں۔ یہ ہمارے پورے معاشرے کے لیے ایک سوال ہے۔
غلطی کس کی ہے؟
یقیناً سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری ان لڑکوں کی ہے جنہوں نے معصوم بچیوں کی کم سنی اور بے بسی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ جرم، جرم ہے؛ چاہے اسے ایک بالغ شخص کرے یا کم عمر نوجوان۔ البتہ کم عمر مجرموں کے معاملے میں قانون، اصلاح، نگرانی اور جواب دہی سب اپنی جگہ ضروری ہیں۔ کسی بچے کے ہاتھوں دوسرے بچے کا استحصال اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں تربیت، نگرانی اور معاشرتی ماحول میں سنگین خرابی پیدا ہو چکی ہے۔مگر سوال یہ بھی ہے کہ *اتنی چھوٹی بچیاں رات کے ساڑھے بارہ بجے گھر سے باہر کیوں تھیں؟*چھ، سات یا آٹھ سال کی بچی کے لیے رات کا یہ وقت گلیوں میں کھیلنے یا اکیلے گھومنے کا نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو موبائل، مہنگے کپڑے، کھلونے اور جیب خرچ تو دے دیتے ہیں، مگر کیا ہم انہیں محفوظ ماحول، وقت، توجہ اور نگرانی بھی دے رہے ہیں؟یہ سوال صرف کسی ایک خاندان سے نہیں۔ یہ سوال ہم سب سے ہے۔آج ہمارے شہروں اور محلوں میں یہ عام منظر بنتا جا رہا ہے کہ چھوٹے بچے خود تندور سے روٹی لینے، دکان سے دودھ لینے یا سودا سلف خریدنے نکل جاتے ہیں۔ والدین کو شاید یہ معمولی بات لگتی ہے۔ مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ *بچے چھوٹے ہوتے ہیں، خطرات چھوٹے نہیں ہوتے۔*بچے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔ کون اسے بہلا کر اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے، کون اس کی معصومیت کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور کون اس کے اعتماد کو توڑ سکتا ہے۔اس لیے بچے کو آزادی دینے اور بچے کو بے نگرانی چھوڑ دینے میں بہت بڑا فرق ہے۔
معاشرہ خراب ہے، مگر ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ہم اکثر کہتے ہیں:معاشرہ بہت خراب ہو گیا ہے‘زمانہ بہت خراب ہے۔آج کل کسی پر اعتبار نہیں۔مگر معاشرہ بنتا کس سے ہے؟ہم سے۔ آپ سے۔ مجھ سے۔ ہمارے گھروں سے۔اگر ہم جانتے ہیں کہ معاشرے میں جرائم موجود ہیں، بچوں کو نشانہ بنانے والے لوگ موجود ہیں، منشیات فروش موجود ہیں، اغوا کار موجود ہیں، جنسی جرائم کے مرتکب افراد موجود ہیں، تو پھر اپنے بچوں کی حفاظت میں ہم اتنے بے فکر کیوں ہیں؟بچے کو بازار بھیجنے سے پہلے ہم یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ اس کے ہاتھ میں پیسے کتنے ہیں، مگر یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ وہ کہاں جا رہا ہے، کس کے ساتھ ہے اور کب واپس آئے گا؟ہم بچے کو اسکول بھیجتے وقت یونیفارم اور کتابیں چیک کرتے ہیں، مگر کیا کبھی اس سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ آج اسکول میں کسی نے تمہیں نامناسب انداز میں چھوا تو نہیں؟ کسی نے تمہیں ڈرایا تو نہیں؟ کسی نے تمہیں ایسی بات کہنے یا ایسا کام کرنے پر مجبور تو نہیں کیا جس سے تمہیں خوف محسوس ہوا؟بچوں کی تربیت صرف پڑھائی کا نام نہیں۔ انہیں محفوظ رہنے کا شعور دینا بھی تربیت ہے۔*
بچوں کو خاموش رہنا نہیں، بولنا سکھائیں
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ان کا جسم ان کی اپنی حرمت ہے۔کوئی شخص، چاہے وہ اجنبی ہو یا جاننے والا، انہیں نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کرے تو وہ فوراً "نہیں" کہیں، وہاں سے دور جائیں اور کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں۔اور سب سے اہم بات:اگر بچہ کوئی شکایت کرے تو اسے ڈانٹیں نہیں۔اکثر بچے اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ گھر والے انہیں ہی قصوروار سمجھیں گے۔ ہمیں اس خوف کو ختم کرنا ہوگا۔بچے کو یہ یقین دلانا ہوگا اگر تمہیں کوئی پریشان کرے گا تو ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔یہ ایک جملہ شاید کسی بچے کی پوری زندگی بچا سکتا ہے۔یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ساری ذمہ داری والدین کی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری اس سے کم نہیں۔پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 377-A کے تحت 18 سال سے کم عمر شخص کے ساتھ مختلف نوعیت کے جنسی استحصال کو جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ دفعہ 377-B میں اس کی سزا بھی مقرر ہے۔ ([Pakistan Code][1])اسی طرح زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ کے تحت بچوں کے اغوا اور گمشدگی کے معاملات کے لیے قومی سطح پر نظام قائم کیا گیا ہے اور اس قانون میں 18 سال سے کم عمر کو بچہ تصور کیا گیا ہے لیکن صرف قانون کا کتاب میں موجود ہونا کافی نہیں۔قانون کی اصل طاقت اس کے فوری اور یقینی نفاذ میں ہے۔اگر کوئی شخص بچے کے خلاف جنسی جرم کرتا ہے تو تفتیش فوری ہو، شواہد محفوظ کیے جائیں، فرانزک کارروائی میں تاخیر نہ ہو، پراسیکیوشن مضبوط ہو اور عدالتوں میں ایسے مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہوں۔مجرم کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔
بچوں کے خلاف جنسی جرائم پر معاشرے کا غصہ بالکل فطری ہے۔ کوئی والدین یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان کے معصوم بچے کے ساتھ ایسی درندگی ہو۔لیکن ہمیں غصے کے ساتھ ساتھ قانون اور انصاف کی حدود کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ہمیں ایسی سزا نہیں مانگنی چاہیے جو محض جذبات کا اظہار ہو؛ ہمیں ایسی *سخت، مؤثر، قانونی اور یقینی سزا* کا مطالبہ کرنا چاہیے جو مجرم کو جرم سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور کر دے۔اصل مسئلہ صرف سزا کی شدت نہیں، *سزا کا یقینی ہونا* بھی ہے۔اگر قانون موجود ہو مگر مجرم کو یقین ہو کہ وہ سفارش، دباؤ، کمزور تفتیش یا طویل عدالتی عمل کے ذریعے بچ سکتا ہے تو سخت سے سخت قانون بھی بے اثر ہو سکتا ہے۔دنیا نے حالیہ برسوں میں جنسی استحصال کے بڑے نیٹ ورکس اور طاقتور افراد کے جرائم کے حوالے سے "Epstein" نام کو ایک خوفناک مثال کے طور پر دیکھا ہے۔ ہمیں اپنے ملک کو کسی ایسے معاشرتی ماحول کی طرف نہیں جانے دینا جہاں بچے طاقتور، بدکردار یا بے خوف لوگوں کے لیے آسان ہدف بن جائیں۔پاکستان کو ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں بچے محفوظ ہوں۔والدین بیدار ہوں۔اساتذہ ذمہ دار ہوں۔محلے ایک دوسرے کے بچوں کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھیں۔پولیس فوری کارروائی کرے۔تفتیش جدید فرانزک بنیادوں پر ہو۔عدالتیں مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں اور مجرم کو یہ یقین ہو کہ وہ کسی صورت قانون سے نہیں بچ سکے گا۔ آخر میں سوال پھر وہی ہے: غلطی کس کی؟صرف اس لڑکے کی جس نے ایک بچی کو تنگ کیا؟صرف اس کے والدین کی جنہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے؟صرف ان بچیوں کے والدین کی جنہوں نے انہیں رات گئے باہر رہنے دیا؟صرف پولیس کی؟صرف حکومت کی؟نہیں۔یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔جب محلے میں کوئی بچہ رات گئے اکیلا نظر آئے تو ہمیں آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔جب کسی بچے کے رویے میں اچانک خوف، خاموشی یا تبدیلی آئے تو ہمیں اسے محض ضد سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔جب کوئی بچہ کسی شخص کے بارے میں خوف ظاہر کرے تو ہمیں اس کی بات سننی چاہیے اور جب کسی بچے کے ساتھ جرم ہو تو ہمیں "یہ ہمارے گھر کا معاملہ نہیں" کہہ کر منہ نہیں موڑنا چاہیے۔کیونکہ آج وہ بچہ کسی اور کا ہے۔کل وہ ہمارا بھی ہو سکتا ہے۔ہم کب جاگیں گے؟کسی اور معصوم کلی کے مرجھانے کے بعد؟کسی اور گھر کے چراغ کے بجھنے کے بعد؟یا آج؟آج اپنے بچوں کو وقت دیں۔
آج ان کی بات سنیں‘آج انہیں محفوظ رہنے کا شعور دیں۔آج اپنے گھروں، محلوں اور اداروں کو بچوں کے لیے محفوظ بنانے کا عہد کریں۔
کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف حکومت کا کام نہیں۔یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اور یاد رکھیے:اب نہیں تو کب؟اگر ہم نہیں تو کون؟