عہد نوکاسنگِ میل

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
میڈیارپورٹس،جوحالیہ دنوں میں آئیں،اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شہبازشریف اورٹرمپ کے درمیان اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے دائرے میں ملاقات کے امکانات زیر ِغورہیںرپورٹس یہ بھی کہتی ہیں کہ پاک فوج کے سربراہ یادیگردفاعی اعلی حکام بھی ممکنہ گفت وشنید میں شریک ہوسکتے ہیں مگریہ ملاقات حتمی طورپرطے شدہ نہیں بلکہ ممکن کی صفت سے جڑی ہے؛اگریہ ملاقات ہوتی ہے توپاک سعودی دفاعی معاہدہ لازمازیرِبحث آئے گاکیونکہ امریکااس معاہدے کے خطے پراثرات اورخاص طورپراس کے اسرائیل و ہندوستان پر اثرکوسمجھنے کاخواہاں ہوگا۔
لہذااس حوالے سے کہاجا سکتا ہے کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ بطورِموضوع ممکنہ طورپرآئندہ بات چیت کاحصہ بن سکتاہے،خاص طورپراگرامریکی
انتظامیہ خطے میں اس معاہدے کے جیوپولیٹیکل پرسوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔واشنگٹن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ سعودی عرب صرف اس کی چھتری کے نیچے رہے،لیکن اب جبکہ پاکستان اس کادفاعی شریک بن رہاہے،توامریکاکویقیناخدشہ ہوگا۔اس ملاقات میں پاکستان کے جوہری پروگرام پربھی سوال اٹھ سکتاہے،اورواشنگٹن یہ سمجھنے کی کوشش کرے گاکہ کیااسلام آباداپنی ایٹمی صلاحیت کوعرب دنیاکی طرف جھکاسکتاہے یانہیں۔سیاسی حقیقت یہ ہے کہ ایسی ملاقاتیں فوری نتائج کی ضامن نہیں ہوتیںمگراگرملاقات ہوتی ہے تو1))امریکی مفادات،2))خلیجی رشتے،اور3))جوہری سکیورٹی کے موضوعات لازمی زیرِبحث آئیں گے۔اس میں پاک سعودی معاہدے کے دفاعی وسیاسی مضمرات پر واشنگٹن کی فکری جانچ پڑتال متوقع ہے۔ 
حالیہ دورے کے دوران صدرٹرمپ نے برطانوی قیادت کی اس ممکنہ مرضیکہ وہ فلسطینی ریاست کوتسلیم کرے پرکھلے لفظوں میں اختلاف ظاہرکیاکہ یہ ایک متنازع اقدام ہے اوروہ اس سے اتفاق نہیں کرتے؛یہ اعتراض دراصل امریکاکی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس میں وہ اسرائیل کے ہراقدام کی پشت پناہی کرتاہے اورفلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنتاہے۔برطانیہ میں داخلی سیاست کادباہے کہ وہ فلسطین کے ساتھ انصاف کرے اوراسے ریاست تسلیم کرے لیکن امریکااس کوامن کے خلاف اقدام قرار دے رہاہے۔
برطانوی وزیراعظم کی طرف سے خلافِ توقع فلسطینی ریاست کی تائیدپرغورنے عالمی طبقے میں بحث چھیڑدی ہے۔اس بیان پر عالمی وعلاقائی ردِ عمل متعددرنگوں میں آیا،ایک طرف برطانیہ کے داخلی سیاسی حلقے نے اپنے فیصلے کی حمایت کی،تودوسری جانب اسرائیلی اورکچھ امریکی حلقوں نے تحفظات کااظہارکیا؛عرب دنیااورفلسطینی قیادت نے عمومی طورپراس رجحان کوخوش آئند سمجھا۔
اس اختلافِ رائے نے عالمی سطح پریہ واضح کردیاہے کہ فلسطینی مسئلے پریورپ اورامریکاایک صفحے پرنہیں ہیں۔عرب دنیا کیلئے یہ امیدکی کرن ہے کہ شاید یورپ میں کچھ ممالک فلسطینی عوام کی آوازسنیں گے،لیکن امریکاکااعتراض اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل کے معاملے پرواشنگٹن کسی نرمی کاقائل نہیں۔سیاسی معنویت یہ ہے کہ برطانیہ جیسابڑا یورپی ملک اگرفلسطینی ریاست کوتسلیم کرے توعالمی سفارتکاری ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے اورامریکی صدرکی مخالفت اس بات کی علامت ہے کہ اس معاملے میں عالمی دائرہ کارمیں اختلافات عیاں ہیں۔یہ جھگڑافلسطینی مسئلے کے حل کی راہ میں نئی سیاسی محاذآرائیاں کھڑاکردے گااورخطے کی سفارتی حکمتِ عملیوں پرنمایاں اثرڈال سکتاہے۔ 
پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض دوحکومتوں کے درمیان کاغذی دستخط نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات پرلکھاگیاایک نیاباب ہے۔اس میں خطے کی سیاست کارخ بدلنے کی صلاحیت ہے۔ اگر ہم تاریخ کے آئینے میں دیکھیں توایسے معاہدے کبھی بھی وقتی نہیں رہے ،یہ آنے والے زمانوں کی سیاست کے خدوخال تراشتے ہیں۔
تاریخ وہ آئینہ ہے جوآنے والے کل کے نقش پڑھاتی ہے ،اسی طرح دیکھاجاسکتاہے کہ چینی اقتصادی وسفارتی توسیعات،پاک سعودی دفاعی بندھن،اورامریکی پالیسیوں کی تبدیل شدہ بیانئے کاایک نیاجغرافیائی وسیاسی نقشہ تیارکررہی ہیں۔ہرنکتہ آزادنثرکاایک شفافہ ہے چین کابڑھتاہواقِبِلہ،پاک سعودی معاہدے کاہندوستان پراثر،امریکاکی غیر یقینی پالیسیاں اوربرطانیہ کی ممکنہ سفارتی پیش رفت جیسے فیصلوں کے ذریعے ایسامنظربناتے ہیں جوجنوبی اورمغربی ایشیا کی سیاست کودشواریانیارخ دے سکتے ہیں۔ 
یہ معاہدہ محض الفاظ کامجموعہ نہیں بلکہ تاریخ کانیاموڑہے۔یہ وہ لمحہ ہے جوآنے والے زمانے کی سیاست کونئی راہیں دکھائے گا۔ اگرآج دہلی کویہ معاہدہ دھچکالگ رہاہے توآنے والے کل میں یہ اس کیلئے کمرتوڑبوجھ ثابت ہوسکتاہے۔پاکستان نے یہ پیغام دے دیاہے کہ وہ محض ایک ریاست نہیں،بلکہ امتِ مسلمہ کی ڈھال ہے۔ہردورکی سیاست اپنے پیچھے نشان چھوڑتی ہے،اورقوموں کے فیصلے یاتوانہیں عظمت کی شاہراہ پرگامزن کرتے ہیں یازوال کی کھائی میں دھکیل دیتے ہیں۔سعودیپاکستان معاہدہ دراصل اس تاریخی سوال کا جواب ہے کہ امتِ مسلمہ اپنی اجتماعی سلامتی کے باب میں کس سمت بڑھ رہی ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کیلئے یہ ایک بڑادھچکاہے،مگراصل اہمیت اس حقیقت کی ہے کہ مسلمان ممالک اب اپنی تقدیرکے فیصلے خودکرنے لگے ہیں۔چین کی ثالثی،سعودی عرب کی تعمیرنو،اورپاکستان کی دفاعی قوت یہ بات یاددلاتے ہیں کہ اگردلوں میں اتحاداور قدموں میں عزم ہوتودنیاکی کوئی طاقت راہوں کی دیوارنہیں بن سکتی۔
اقوامِ متحدہ کی مجالس ہوں یاعالمی ایوانوں کی سیاست، فلسطین کاسوال ہویاایران کابحرانسب اسی اٹل سچائی کی گواہی دیتے ہیں کہ طاقت اب یک رخی نہیں رہی۔یہ وقت ہے کہ مسلم دنیااپنی تاریخ کے سبق دہراتے ہوئے وحدت کی لڑی میں نظرآئے جیساکہ اقبال نے کہاتھا:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفردہے ملت کے مقدرکاستارہ
ان نکات سے واضح ہوتاہے کہ چین خطے میں نئی طاقت کے طورپرابھررہاہے،جوصرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ سفارتی ثالثی بھی فراہم کررہاہے۔سعودی عرب کی ترقی اورسلامتی کے منصوبوں میں چین کی گہری شمولیت ہندوستان کومزیدپیچھے دھکیل رہی ہے۔امریکاکی پالیسیوں کابدلادہلی کیلئے مسائل پیداکررہاہے،خصوصاچابہارجیسے منصوبے میں۔اقوامِ متحدہ جیسے عالمی فورمزپر پاکستان کے پاس اپنی پوزیشن مزیدمضبوط کرنے کاموقع ہے۔
فلسطین کامسئلہ ایک بارپھرعالمی سفارتکاری میں مرکزیت اختیارکررہاہے،اوریورپ وامریکاکے درمیان اس پراختلاف کھل کرسامنے آرہاہے۔یہ معاہدہ محض آج کا واقعہ نہیں بلکہ آنے والے کل کااشارہ ہے۔تاریخ کے پنوں پریہ باب اسی صورت میں سنہری ہوگاجب امت اس سے بیداری،اتحاداورخوداعتمادی کا سبق لے کرآگے بڑھے۔یہی وہ پیغام ہے جواس مقالے کے ہرنکتے سے دینامقصودہے،اوریہی وہ چراغ ہے جس سے قاری کے دل میں روشنی کی لوپیدا کرنے کی ایک ادنیٰ کوشش کی ہے۔ 
رہے نام میرے رب کا،جودلوں کے حال سب سے بہترجانتاہے!