محمدجمیل گوندل
وطن عزیزپاکستان،ہم وطنوں اوراوورسیزپاکستانیوں کیلئے ماہ اگست کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ جب ہم بحیثیت قوم ہرسال 14 اگست کوجوش وجذبہ اورتجدیدعہد کے ساتھ اپناجشن آزادی مناتے ہیں تودوقومی نظریہ تازہ دم ہوجاتا ہے۔بانیان پاکستان سمیت ہمارے باپ دادا نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اپنے اوراپنی نسلوں کیلئے یہ آزاد وطن حاصل کیاتھا۔یوم آزادی کی مناسبت سے ہماری چھتیں اور شاہراہیں سبز ہلالی قوم پرچموں اورجھنڈیوں سے سجادی جاتی ہیں،نجی وسرکاری عمارتوں پربھی سبزہلالی قومی پرچم شان وشوکت سے لہراتا ہے اور شہری مادروطن کی والہانہ محبت سے سرشار ہوتے ہیں۔ بچے جھوم جھوم کر ملی نغمے گنگناتے ہیں ، نوجوان اپنے وطن سے دیوانہ وار محبت اوراس کی حفاظت کاتجدیدعہد جبکہ ہمارے بزرگ اپنی قربانیوں کی کہانیاں دہراتے ہیں،تاہم اس جشن کے پس منظر میں ایک ایسی حقیقت پوشیدہ ہے جس سے ہمارے قلوب چھلنی ہوجاتے ہیں۔ یہ ان پاکستانیوں کی غمناک رودادہے جو مہنگائی اور بیروزگاری کی بیڑیوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ان کے قلوب میں محبوب وطن کی محبت کے کئی سمندرٹھاٹھیں مارتے ہیں لیکن معاشی غلامی کے بوجھ تلے ان کادم گھٹ رہاہے۔
صوفی شاعرحضرت محمد اقبالؒ اوربابائے قوم حضرت محمدعلی جناحؒ کاپاکستان کی محبت اوراہمیت کے تناظرمیں کوئی بھی فرمان فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔بانیان پاکستان نے جس پاکستان کاخواب دیکھا تھا شاید یہ وہ پاکستان نہیںہے،ہمیں پاکستان کوسیراب اور بانیان پاکستان کاہرایک خواب شرمندہ تعبیرکرناہوگا۔لیکن آج کا ناتواں اورنادارومفلس شہری جب اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے نکلتا ہے تو اسے مہنگائی کی چکی میں پسنااوراحساس محرومی تپش میں جھلسنا پڑتا ہے۔ آزادی کا مطلب صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ معاشی، سماجی اور ذہنی آزادی بھی ہے، بدقسمتی سے آج عام لوگ اس آزادی سے محروم ہیں۔ ان کیلئے گلستاں کانٹوں بھری سیج بن چکا ہے جہاں ہر قدم پر مشکلات اس کا انتظار کر رہی ہیں۔ ضروریات زندگی اور پٹرول کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں۔ ایک مزدور جو روزانہ چندسو روپے کماتا ہے وہ اپنے محدود وسائل کاستر فیصد صرف طعام پرصرف کرتا ہے۔ بجلی سمیت یوٹیلیٹی بلز، کرایہ، ادویات اور بچوں کی فیسیں اس کیلئے خواب بن جاتے ہیں۔
مہنگائی کاطوفان پاکستانیوں کیلئے مستقل بحران بنتاجارہا ے۔ گزشتہ چند برسوں میں ضروریات زندگی کے نرخوںمیں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی ہر چند ماہ بعد اضافہ ہوتا ہے جو ایک عام شہری کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ ایک عام پاکستانی خاندان جو پہلے اپنی آمدنی کا کچھ حصہ بچت یا تفریح پر صرف کرتا تھا اب اپنی پوری آمدنی صرف بنیادی ضروریات پر صرف کر رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی اور نفسیاتی مسائل کو بھی جنم دے رہی ہے۔مہنگائی کے اثرات صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ کاروبار اور صنعتوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔نچلی سطح کے نجی کاروبار جو قومی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اس صورتحال میں سب سے زیادہ ان پرمنفی اثر پڑتا ہے۔ بڑھتی ہوئی خام مال کی قیمتیں، یو ٹیلیٹی بلز کا بوجھ اور قوت خریدمیں کمی نے کئی دکانداروں اور چھوٹے ٹریڈرز کو اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجتاً بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔مہنگائی اور بیروزگاری کے اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی بھی ہیں۔ جب ایک کفیل اپنے اہل خانہ کیلئے روٹی کا بندوبست نہیں کر پاتا تو گھریلو تنائو بلکہ تشدد اور تصادم میں اضافہ ہوتاجا ہے۔ بچوں کی تعلیم بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ والدین جب بچوں کی فیسیں یا کتابوں کے اخراجات پورے نہیں کر پاتے تو بچوں کو اسکول سے نکال کر مزدوری پر لگا دیتے ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ وہ جو برسوں تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں نکلتے ہیں انہیں اکثر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوکری نہ ملنے کی وجہ سے وہ خود اعتمادی کھو دیتے ہیں۔ پاکستان میں معاشی دباو? کی وجہ سے ڈپریشن اور اضطراب کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی حالات مختلف نہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور نجی ہسپتالوں کے مہنگے علاج نے غریب شہری کے لیے صحت کی سہولیات کو ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی اور طویل انتظار نے غریب شہری کو مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستانی شہری کے دل میں وطن کی محبت کم نہیں ہوتی۔ وہ اس سرزمین سے محبت کرتا ہے جس کی مٹی میں اس کے اسلاف کا خون شامل ہے۔ یہ محبت اس وقت بھی نظر آتی ہے جب وہ اپنی محدود آمدنی سے اپنے بچوں کے لیے سبز و سفید جھنڈیاں خریدتا ہے اور ملی نغمے سنتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ یہ وہی جذبہ ہے جو اسے مہنگائی اور بے روزگاری کے باوجود اپنے وطن سے جوڑے رکھتا ہے۔ لیکن کیا صرف یہ جذبہ کافی ہے۔ کیا محض وطن سے محبت ایک شہری کو اس کی بنیادی ضروریات فراہم کر سکتی ہے۔حکومت کو ہم وطنوں کومفید شہری بنانے اورہوشربا مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ ضروریات زندگی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک موثر نظام بنانا ہوگا۔بجلی اور گیس کے بلوں میں خاطرخواہ کمی کیلئے توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بیروزگاری کے خاتمے کیلئے نجی شعبے کے ساتھ مل کر نئی صنعتوں اور کاروباروں کو فروغ دینا ہوگا۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہوگا تاکہ ہر شہری کو بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ سب سے اہم موروثی سیاست ،وی آئی پی کلچر، کرپشن اورسفارش سے نجات حاصل کرنا ہوگی، جو ہمارے زیادہ ترمعاشرتی اور معاشی مسائل کی روٹ کاز ہیں۔
یوم آزادی درحقیقت پاکستانیوں کیلئے ایک جذباتی دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہم اپنی آزادی کی خوشی مناتے ہیں اور اپنے شہداء سمیت بانیان پاکستان کو شدت سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن اس جشن کے ساتھ اپنے نادارومفلس ہم وطنوں کے دکھ درد بھی یاد رکھیں جو مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ ہمیں اس امتحان سے گزرنا ہے اور ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ہر شہری معاشی غلامی اورمعاشی ناکامی کے بوجھ سے آزاد ہو اور اپنے وطن کی محبت کو سچے معنوں میں جشن کی صورت میں منا سکے۔ اس یوم آزادی پرتجدیدعہد کریں کہ ہم اپنے وطن کو منافرت اورتعصبات سے پاک دیں جہاں ہر شہری کادل مادروطن کیلئے دھڑکتا ہواور کوئی طاقتور کسی کمزورکاحق ہڑپ نہ کرے۔