سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
وزارتِ خارجہ نے ایک محتاط بیان دیاہے کہ وہ اس معاہدے کے مضمرات کامطالعہ کرے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بیان میں طاقت نہیں بلکہ اندرسے خوف واضطراب اورکمزوری جھلکتی ہے۔یہ اس عاجزانسان کی مانندہے جوطوفان کودیکھ کرمحض اپنی آنکھیں بندکرلیتاہے۔یہ اعلان گویاایک مدافعانہ اورمنافقانہ رویہ ہے،جواپنی کمزوری کوچھپانے کی کوشش کر رہاہے۔
کنول سبل،انڈین سابق سیکریٹری خارجہ،نے صاف کہاکہ اب ہندوستانی اس معاہدے کومحض کاغذی نہیں سمجھتے۔سعودی فنڈزاب پاکستانی فوج کومزیدمضبوط کریں گے۔یہ بات دہلی کیلئے سب سے بڑااندیشہ ہے،کیونکہ پاکستان کی فوج پہلے ہی دنیاکی ایک منظم اورتجربہ کارفوج ہے۔اگرسعودی سرمایہ کاری اوروسائل اس کے ساتھ مل جائیں توخطے میں طاقت کانقشہ ہی بدل سکتاہے۔دراصل دہلی کے اس اندیشے کااعلان ہے کہ پاکستان خطے میں ایک عملی طاقت کے طورپرابھررہاہے اوراسرائیل کے خلاف عربوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کاامکان ہندوستان کیلئے ناقابلِ برداشت ہے۔
یہ معاہدہ محض موجودہ لمحے کانہیں بلکہ مستقبل کے امکانات کاآئینہ دارہے۔یہ معاہدہ محض ایک آغازہے،انجام نہیں۔اس کے ممکنہ اثرات یہ ہوسکتے ہیں کہ پاکستان،ترکی اورچین کی مثلث مزیدمضبوط ہوگی۔اگرپاکستان،ترکی اورچین جیسے ممالک خلیجی دنیاکے ساتھ کندھے سے کندھاملاکرکھڑے ہو گئے توہندوستان کیلئے اپنی حیثیت برقراررکھنامشکل ہو جائے گا۔عرب دنیاپاکستان کواپنامحافظ سمجھے گی،اوردہلی کیلئے ان کے دروازے بندہونے لگیں گے۔مزیدیہ کہ سعودی عرب کی قربت پاکستان کونہ صرف دفاعی بلکہ اقتصادی محاذ پر بھی مستحکم کرے گی۔یہی وہ بات ہے جوہندوستان کیلئے سب سے بڑی پریشانی کاسبب بنے گی۔اگرخلیجی ممالک ایک اجتماعی دفاعی ڈھانچہ قائم کرلیتے ہیں توہندوستان کی خطے میں موجودگی محض تماشائی کی حیثیت اختیارکرجائے گی۔
چین نے مغربی ایشیا میں محض تجارت نہیں،بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کی تعمیرکابیج بویاہے جوسفارت،تجارت اورڈِپلومیسی میں تیز رفتاری سے پھل پھول رہاہے۔چینی سیاست کا مرکزی فلسفہ ہمیشہ پرامن ترقی رہاہے۔بیجنگ نے اپنی عسکری طاقت کی بجائے معاشی قوت کوبطورہتھیاراستعمال کیا،اوریہی اس کی اصل قوت بھی ہے۔بیجنگ نے سعودی-ایران مفاہمت میں ثالثی کرکے اپنے آپ کو وسطِ میدان پرکھڑاکیاایک ایساکردارجواضطراب کوکم کرکے اس خطے کوچین کے عالمی اقتصادی دھاگے سے باندھتاہے۔یہ عمل محض صلح صفائی نہیں بلکہ اثرورسوخ کانرم مگرمستقل اضافہ ہے۔چین اب خطے میں امن کامترجم بھی نظرآتاہے اورسرمایہ کاری کاسب سے بڑاواسطہ بھی۔
چین نے اپنے تجارتی انفراسٹرکچروژن کے ذریعے خودکوایک لازم وملزوم قوت کے طورپرمنوایاہے جوکسی تنازعہ میں بروقت مفاہمت کروابھی سکتاہے اوربحران میں اپنی معیشتی چھتری بھی فراہم کرسکتاہے۔یہی وجہ ہے کہ مستقبلِ مغربی ایشیامیں چین کا کردارغیرمتکلم طاقت نہیں بلکہ فعال،باضابطہ اورمستقل اتحادی کے طورپرابھرتادکھائی دیتاہے۔چین نے حالیہ برسوں میں نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کومضبوط کیاہے بلکہ ایران کے ساتھ صلح کرانے میں بھی فیصلہ کن کرداراداکیا۔یہ قدم صرف مشرقِ وسطی میں امن کی کوشش نہ تھابلکہ دنیاکویہ پیغام دیناتھاکہ اب امن کی ثالثی واشنگٹن کے ہاتھ سے نکل کربیجنگ کے حصے میں آ رہی ہے۔ ستقبل قریب میں چین مغربی ایشیامیں دورخوں سے طاقتورہوگا۔
(1)سرمایہ کاری اورتکنیکی ترقی کے منصوبوں کے ذریعے،اور
(2)سفارتی ثالثی کے کردارکے ذریعے۔
اس کاسب سے بڑااثریہ ہوگاکہ خلیجی ممالک کی سلامتی کیلئے صرف امریکاپرانحصارکم ہوگااوروہ چین کوبھی اپنے سرپرست کے طور پر دیکھنے لگیں گے۔چین اورایران کے درمیان25 سالہ اسٹریٹجک تجارتی معاہدہ ہوچکاہے،جس کی مالیت اربوں ڈالرہے۔اس معاہدے نے ایران کے ساتھ ہندوستان کی سرمایہ کاری اورتجارتی اثرکوکمزورکردیا،کیونکہ دہلی امریکی دباکے باعث اپنی منصوبہ بندی آگے نہ بڑھاسکا۔
چین اورسعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری اورتکنیکی شراکتیں محض افسانوی دعوے نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہیں۔سعودی عرب میں بھی چین تیزی سے جگہ بنارہاہے۔نیوم سٹی، توانائی ،تیل کی پروسیسنگ،اورخاص طورپرریلوے اورجدیدانفراسٹرکچرمیں چین کی فنی مہارت سعودی حکومت کی اولین ترجیح بنتی جارہی ہے۔ولی عہدمحمد بن سلمان کے سعودی ویژن2030کاایک بڑاحصہ چینی سرمایہ اورمہارت پراستوارہے اور2024/2025کے دوران چینی اداروں کوسعودی انفراسٹرکچرکے اہم معاہدے ملے ہیںجس نے ریاض کوچینی فنی مہارت اورسرمایہ کیلئے کھول دیا۔اس پس منظرمیں سعودی سرکارکاچین کے ساتھ ریلوے اورقومی انفراسٹرکچرکی بات چیت کرنا، محض لفظی گزرگاہ نہیں بلکہ تکمیل کیلئے عملی سطرِنقشہ ہے۔یوں سعودی عرب کی داخلی ترقی اور بیرونی سلامتی دونوں میں چین ایک لازم وملزوم کرداربن چکاہے۔ہندوستان کیلئے یہ ایک بڑی سفارتی ناکامی ہے کیونکہ جس مقام پروہ اپنے لیے اقتصادی مواقع دیکھ رہاتھا،وہاں چین نے سبقت لے لی ہے۔
یہ بھی لازم ہے کہ چین کاسرمایہ محض مواصلاتی تعمیرات اورراستوں تک محدود نہیںوہ ڈیجیٹل،توانائی اورلاجسٹکس میں بھی داخل ہورہاہے،جس کااثریہ ہوگاکہ سعودی معیشت کی تہہ میں چین کانقش گہراہوتاجائے گااورجب فوجی یاسکیورٹی معاہدے بھی سامنے آئیں،تویہ اقتصادی وابستگی سیاسی وسکیورٹی فیصلوں میں وزن ڈال سکتی ہے۔
چابہاربندرگاہ ہندوستان کیلئیایک اسٹریٹجک گوہرکی حیثیت رکھتی تھی،کیونکہ یہ افغانستان اوروسطی ایشیا تک دہلی کی براہِ راست رسائی کاذریعہ تھی۔حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ انڈیاکوایران کے چابہاربندرگاہ کے سلسلے میں جوسابقہ استثنادیتی رہی تھی،اسے واپس لینے کااعلان کیاہے ۔یہ فیصلہ29ستمبر(نوٹس کے مطابق)سے مؤثرہوگا لیکن اب اس استثناکے واپس لینے سے پہلا تجارتی رسداورلاجسٹک نقصان یہ ہوگاکہ ہندوستان اب اس بندرگاہ کے ذریعے افغانستان تک رسائی برقرارنہیں رکھ پائے گااوراسے ورچوئل متبادل راستے جولمبے اورمہنگے تلاش کرنے ہوں گے جوبھارتی تجارت کی کمرتوڑکررکھ سکتے ہیں۔
چابہارمنصوبہ دہلی کے اس خیال کاجزتھاکہ ایران کے ساتھ بندرگاہی تعاون کے ذریعے افغانستان تک تجارتی اورسماجی اثرکو مضبوط کیاجائے؛استثناختم ہونے سے دہلی کی اس علاقائی رسائی اوراثررسوخ کمزورپڑسکتاہے۔امریکاکی یہ پالیسی تبدیلی دہلی کیلئے دوراندیشی کاسبب ہے جویہ ظاہرکرتی ہے کہ واشنگٹن اپنے مفادات کے مطابق استثناواپس لے سکتاہے،اورلہذانئی سفارتی حکمتِ عملی یامتبادل اتحادی تلاش کرنابھارتی خارجہ پالیسی کے سامنے ضروری بن جائے گاجس کیلئے مودی نے چین یاتراسے حاصل کرنے کی ممکنہ کوشش توکی لیکن وکٹری پریڈ سے دوررکھ کرمودی کے دورے کی ناکامی سامنے آگئی ہے۔
سیاسی نقصان یہ ہے کہ یہ فیصلہ ظاہرکرتاہے کہ واشنگٹن دہلی کے ساتھ تعلقات کوہمیشہ اپنی شرائط پررکھتاہے۔اس سے ہندوستانی سفارتکاری کودھچکالگاہے۔اوردہلی کوسٹریٹجک نقصان یہ ہوگاکہ جو حکمتِ عملی وسطی ایشیامیں اثرورسوخ بڑھانے کی تھی،وہ اب کمزورپڑگئی ہے،جبکہ ایران مزیدچین اورروس کی طرف جھک گیاہے۔مختصریہ کہ چابہارسے متعلق امریکی اقدام نے ہندوستان کو مادی،اسٹریٹجک اورسفارتی طورپرنقصان پہنچانے کاامکان بڑھادیاہے اوریہی وہ مقام ہے جہاں دہلی کی منصوبہ بندی کودوبارہ ورق وار کرنالازمی ہوجاتاہے کہ مودی کے دہرے کردارپرکیسے پردہ ڈالاجائے۔ (جاری ہے)