فرانسیسی حکام نے حالیہ لوور میوزیم سے قیمتی زیورات کی چوری کے مقدمے میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ چوری ایک بڑے اور عہد ساز واقعہ کے طور پر ہوئی جس میں تقریباً 102 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نایاب زیورات چوری کیے گئے تھے۔پہلا مشتبہ شخص 25 اکتوبر کی رات تقریباً 10 بجے پیرس کے شارل ڈی گال ایئرپورٹ سے الجزائر جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا۔ یہ ملزم، جس کی عمر تقریباً 30 سال ہے، سین سینٹ ڈینس کے رہائشی اور پہلے سے فرانسیسی پولیس کے مطلوب تھا۔ دوسرے ملزم بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور اسے کچھ دیر بعد حراست میں لیا گیا۔ دونوں افراد کی عمریں قریباً 30 سال ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی علاقے سے ہے۔واقعہ کی تفصیلات کے مطابق، چوروں نے دن دہاڑے، صبح تقریباً 9:30 بجے، چار نقاب پوش چوروں نے لوور میوزیم پر حملہ کیا۔ انہوں نے چین سا (chainsaw) کی مدد سے میوزیم کی دیوار چڑھ کر، محض سات منٹ میں، ہائی پروفائل کارروائی انجام دی۔ اس دوران، انہوں نے نیپولین بوناپارٹ کے خاندان کے تاریخی زیورات چرا لیے، جن میں تاج، ہار اور بروچز شامل تھے۔ چوروں نے یہ کارروائی انتہائی تیزی سے انجام دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد قیمتی نوادرات کو جلدی اور بغیر پکڑے جانے کے تھی۔
پولیس کے مطابق، چوروں کا یہ حملہ ایک منظم اور اعلیٰ تربیت یافتہ گروہ کا کام معلوم ہوتا ہے، اور انہوں نے چوری شدہ اشیاء کو چھپانے یا ان کی شناخت کو مشکل بنانے کے لیے ممکنہ طور پر پگھلا یا تراش لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا اور چاندی آسانی سے پگھلا دیے جا سکتے ہیں، اور قیمتی پتھر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹے جا سکتے ہیں، جس سے ان کی شناخت مشکل ہو جائے گی۔حکام نے بتایا ہے کہ چوروں سے خصوصی تفتیشی ٹیم 96 گھنٹے تک پوچھ گچھ کرے گی تاکہ ان کے دیگر ممکنہ روابط اور چوری کے دیگر امکانات کا پتا چلایا جا سکے۔ واقعے کے بعد، لوور میوزیم نے اپنی سب سے قیمتی نوادرات کو بینک آف فرانس منتقل کر دیا ہے تاکہ کسی مزید چوری سے بچا جا سکے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ واقعہ فرانسیسی اور بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا سرکاری اور حفاظتی چیلنج بن چکا ہے کیونکہ یہ چوری نہ صرف ایک تاریخی اور ثقافتی نقصان ہے بلکہ اس کا اثر عالمی سطح پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔