وفاقی حکومت اچھے تعلقات چاہتی ہے تو مثبت اقدامات کرے،شوکت یوسفزئی

سہیل آفریدی کو دہشتگرد، سہولت کاراور بھتہ مافیا کہا گیا پھر معافی بھی نہیں مانگی گئی
 آفریدی بانی سے مل کر کابینہ فائنل کرلیں گے تو کیا ہوجائے گا,عدالتی فیصلہ نہیں مانا جارہا
پشاور(آئی این پی )پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اگر خیبرپختونخواہ سے اچھے تعلقات چاہتی ہے تو مثبت اقدامات کرے،سہیل آفریدی کو دہشتگرد، سہولتکاراور بھتہ مافیا کہا گیاپھر معافی بھی نہیں مانگی گئی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کے پی میں کابینہ کے بغیر سارے کام چل رہے ہیں، سارے سیکرٹری لیول پر ہوتے ہیں، بانی سے وزیراعلی کے پی کی ملاقات کیلئے عدالت کا فیصلہ نہیں مانا جارہا، کیا لوگوں کو مجبور نہیں کیا جارہا کہ سڑکوں پر نکلیں۔ن لیگ نے جو سلسلہ شروع کیا یہ چاہتے پتا نہیں کیا ہیں؟سہیل آفریدی کیخلاف شروع دن سے محاذ آرائی کا آغاز کیا ، مطلب اتنے الزامات لگا دیئے کہ وہ سمجھ ہی نہیں سکا کہ وفاق کے ساتھ بیٹھا جائے۔شوکت یوسفزئی نے کہا سہیل آفریدی جب سے وزیراعلی بنیں ہیں ملاقات کرنا ان کی ضرورت بھی ہے، ان کی خواہش ہے کہ وہ جاکر عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ وفاقی حکومت ایک طرف ساڑھے چار کروڑ عوام کا درد محسوس کررہی ہے اور دوسری طرف ملاقات نہیں کروا رہے۔انہوں نے کہا حکومت جان بوجھ کر سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروا رہی۔ ان کے پاس 9مئی اور 26نومبر کے علاوہ کچھ کہنے کو نہیں ہے۔ وزیراعلی سہیل آفریدی نئے ہیں ان کے ساتھ تعلقات اچھے رکھنے چاہئیں۔ پہلے دہشتگردوں کے سہولتکار کا الزام لگاتے ہیں پھر کہتے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ساتھ بیٹھیں۔ سہیل آفریدی پر جو الزامات لگائے گئے اس پر معافی بھی نہیں مانگی گئی۔ سہیل آفریدی کو دہشتگرد، سہولتکاراور بھتہ مافیا کہا گیا۔ وزیراعلی بانی سے مل کر کابینہ نام فائنل کرلیں گے تو کیا ہوجائے گا؟سہیل آفریدی کو کیوں بانی سے نہیں ملنے دیا جارہا؟۔