پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے درمیان احتجاج میں ناکامی کے بعد الزامات کا تبادلہ شروع ہوگیا ہے۔
بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان قیادت کے حوالے سے تنازعہ نے کارکنوں کو مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کے الزامات
بشریٰ بی بی نے پی ٹی آئی کے احتجاج کی ناکامی اور قیادت کے فرار کا الزام علی امین گنڈاپور پر عائد کیا، جبکہ علی امین گنڈاپور اور دیگر قیادت نے اس ناکامی کا الزام بشریٰ بی بی پر ڈالا۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس بات کا شکوہ کیا کہ مذاکرات میں کامیابی کے قریب پہنچنے کے باوجود ڈی چوک جانے کی ضد نے سب کچھ خراب کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے بات چیت کے بجائے براہ راست تصادم کی راہ اختیار کی گئی جس سے تحریک کی قوت کمزور ہوگئی۔
علیمہ خان کے سوالات
علیمہ خان نے بھی مرکزی کنٹینر کی بجلی اور ساؤنڈ سسٹم کی بندش پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام ہوتے ہی مرکزی کنٹینر کی سروسز کیوں بند کر دی گئیں اور ورکرز کو کسی قسم کی ہدایات نہیں دی گئیں۔ علیمہ خان نے یہ بھی کہا کہ کارکنوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا۔
مشترکہ پریس کانفرنس کی ناکامی
ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی مشترکہ پریس کانفرنس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم علی امین گنڈاپور کو اکیلے اس کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے پارٹی کے اندر مزید خلفشار اور قیادت کے درمیان اختلافات کو بڑھا دیا ہے۔یہ اندرونی تنازعات پارٹی کی قوت کو متاثر کر رہے ہیں اور کارکنوں میں مزید الجھن پیدا کر رہے ہیں۔