نیویارک: اقوام متحدہ کی مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی نمائندہ فرانچسکا البانیزے نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران بچوں کے زندہ جلنے کے لرزہ خیز مناظر پر گہرے صدمے اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جذباتی بیان:
سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس" (سابق ٹوئٹر) پر اپنے ایک بیان میں فرانچسکا البانیزے نے لکھا:"میں نے بے شمار انسانوں، اور خاص طور پر بچوں کے سائے جلتے ہوئے دیکھے ہیں، اب میں آگ کو دیکھ بھی نہیں سکتی، دل متلا جاتا ہے۔"انہوں نے مزید کہا:"ہمیں اس قتلِ عام کو فوری روکنا ہوگا۔ فلسطینی ہمیں معاف کردیں۔"
اسرائیلی بمباری سے انسانی المیہ:
فرانچسکا البانیزے کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہزاروں معصوم فلسطینی شہری، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، شہید ہو چکے ہیں۔ فلسطینی علاقوں میں اسپتال، اسکول، پناہ گزین کیمپ اور دیگر شہری تنصیبات مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔
مسلسل آواز بلند کرنے والی عالمی شخصیت:
فرانچسکا البانیزے اقوام متحدہ میں مقبوضہ فلسطین کے لیے خصوصی رپورٹیئر (Special Rapporteur) کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرتی آ رہی ہیں۔
عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش:
ان کا تازہ بیان دنیا بھر کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک اور کوشش ہے، جس میں وہ عالمی برادری سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس ظلم و بربریت کو بند کیا جائے اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکی جائے۔
پس منظر:
اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی میڈیا غزہ میں انسانی بحران پر بارہا تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس میں سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ معصوم بچے اور عورتیں ہیں۔فرانچسکا البانیزے کا درد بھرے الفاظ میں کیا گیا یہ بیان نہ صرف موجودہ صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ یہ بھی باور کراتا ہے کہ انسانیت اب ایک فیصلہ کن موڑ پر آ چکی ہے جہاں خاموشی بھی جرم ہے۔