بنگلادیشی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے رہنما اظہرالاسلام کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی

بنگلادیشی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے رہنما اظہرالاسلام کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی

ڈھاکا: بنگلادیش کی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے رہنما اظہرالاسلام کو سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اظہرالاسلام کو انسانیت کے خلاف جرائم سے بری کر دیا۔ اس سے قبل انہیں جنگی جرائم کے الزامات پر 2014 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔اظہرالاسلام کو 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ 12 سال سے قید میں تھے۔ ان پر 1971 کی جنگ کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ عدالتی فیصلے میں ان الزامات کے ناقص شواہد اور قانونی خامیوں کی بنیاد پر انہیں بری کر دیا گیا۔

عدالت کے فیصلے کو بنگلادیش کی سیاست اور عدالتی نظام میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ جماعت اسلامی نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔واضح رہے کہ جماعت اسلامی بنگلادیش کی ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے، جس کے کئی رہنماؤں کو ماضی میں جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔