ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت بھارت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں شہبازشریف
ایران کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں، پاکستان اور ایران کے دیرینہ، ثقافی اور تاریخی تعلقات ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے ان تعلقات کو مزید گہرا بنایا جائے ‘ مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے ہم تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے:وزیراعظم
ایران اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک ہیں جو غزہ مظالم کی مذمت کرتے ہیں‘ تمام مغربی ممالک خاموش رہ کر اس صورتحال میں انجوائے کررہے ہیں :ایرانی صدر‘مشترکہ پریس کانفرنس‘سعدآباد محل پہنچے پر شہبازشریف کاشاندار استقبال
اسلام آباد (آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت مکمل حمایت کرتے ہیں ، ہمسائیہ جارحیت چاہتا ہے تو اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں گے،پاکستان خطے میں امن کے لیے بھارت سے بات چیت کے لیے تیار ہے، بھارت سے تجارت، دہشت گردی اور پانی کے مسئلے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، بھارتی کشیدگی کے دوران پاکستان کے ساتھ حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ایران کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں، یہاں کا دورہ کر کے دلی مسرت ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے دیرینہ، ثقافی اور تاریخی تعلقات ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تعلقات کو مزید گہرا بنایا جائے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے ہم تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ تعمیری اور مفید بات چیت ہوئی، ایرانی صدر نے جنوبی ایشیا میں ہونے والی کشیدگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، ایرانی سفیر نے مسلسل رابطہ رکھا جس پر میں شکریہ ادا کرتا ہوں ایران نے پاکستان کیلئے اپنی فکر کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس تنازع میں تحمل کا مظاہرہ کیا اور پھر ہماری مسلح افواج نے قوم کی حمایت کے ساتھ بھرپور جواب دیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہش مند اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے،وزیراعظم نے کہا کہ اگر بھارت میری امن کی پیش کش قبول کرتا ہے تو پھر ہم دکھائیں گے کہ ہم خلوص نیت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں، لوک سبھا کی قرارداد کے مطابق مقبوضہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم امن کیلئے پانی کے مسئلے، تجارت اور انسداد دہشت گردی کیلئے بھارت کے ساتھ سنجیدہ بات کرنا چاہتے ہیں، اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو پھر ہم اپنے ملک کا بھرپور دفاع کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان غزہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، غزہ میں 54 ہزار فلسطینی اسرائیلی جارحیت سے شہید ہوچکے ہیں۔ عالمی برادری کو اب غزہ کے معاملے پر اپنا کردار ادا کر کے جنگ بندی کروانا چاہیے،ہم غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں،غزہ میں ظلم و ستم کی ایسی داستانیں ہیں جوبیان نہیں کی جاسکیں ۔ اور دنیا کو غزہ میں مکمل سیز فائر کے لیے اپنے اثروسوخ کا استعمال کرنا ہو گا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر بات کریں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایران کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے، ہم ایران کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور ایران کے پرامن نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کرتے ہیں۔دوسری جانب ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات دیرینہ ہیں اور ہم بھارت و پاکستان کے درمیان سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہیں، دونوں ممالک سے مطالبہ ہے کہ اختلافات اور مسائل کا آپس میں بات چیت کر کے حل نکالیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو خطے کے امن کیلئے آپس میں بات چیت کرنا چاہیے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ہم فلسطین میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایران اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک ہیں جو ملکر غزہ مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام مغربی ممالک خاموش رہ کر اس صورت حال میں انجوائے کررہے ہیں اور ان کا یہ رویہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اورپاکستان فلسطینی کازکی بھرپورحمایت کرتے ہیں، فلسطین میں ہونے والی نسل کشی پرعالمی برادری کی خاموشی سوالیہ نشان ہے؟ پاکستان پرامن مقاصد کے لیے ایران کے سول جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ایران کے حوصلہ افزا نتائج کے لیے پرامید ہوں۔ ایرانی صدر نے دورہ کرنے پر وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا شکریہ ادا کیا