غنڈہ ایکٹ پروزیر اعلیٰ سے بات کروں گا ملک احمد خان ایکٹ نہیں بنانے دینگے احمد خان بھچر

9 مئی کو شہداء کے مجسمے جلائے گئے،اگر انہیں سزا نہ دی گئی اور صلح کی بات کی گئی تو میں ناراض ہوں گا میری ناراضگی بڑی شدید ہو گی:سپیکر پنجاب اسمبلی
غنڈہ ایکٹ سے انگریز کی کالونیز والی سوچ پروان چڑھ رہی ہے، غنڈہ ایکٹ کا مطلب کسی کو بھی بیان دینے پر گرفتار کرلیا جائیگا:اپوزیشن لیڈر
لاہور(اے ایف بی)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے مجوزہ غنڈہ ایکٹ کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ میں پولیس کو ایسے اختیارات دینے کے خلاف ہوں اور اس کے خلاف اپنا کردار ادا کروں گا، میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس بھی جائوں گا اور جو یہ بل لارہے ہیں ان سے بھی بات کروں گا، جنہوں نے نو مئی کو شہدائکے مجسمے جلائے اگر انہیں سزا نہ دی گئی اور صلح کی بات کی گئی تو میں ناراض ہوں گا اور میری ناراضگی بڑی شدید ہو گی۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی تحریک عدم اعتماد کی باتیں نہ کرے، اگر وہ ایسا کریں گے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے اپنے ووٹوں میں سے بہت سارے ووٹ انہیں نہیں ملیں گے کیونکہ ان کے اپنے لوگوں کو اس طرز سیاست پر شدید اعتراض ہے۔ اسی جماعت نے الیکٹرول بل لانے کی بات کی تھی اور اس بل کے خلاف ان کے اپنے بیس سے بائیس لوگ ان کے ساتھ نہیں تھے اور انہی لوگوں نے ان کو چھوڑا اور جو ان کی حکومت گرنے کا سبب بنا۔ میں ان سے کہتا ہوں ایسا کام نہ کرنا یہ بات پچیس سے تیس لوگوں تک جا سکتی ہے‘پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف احمد خان بھچر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے  غنڈہ ایکٹ نہیں بنانے دیں گے، یہ انگریزوں کا قانون دوبارہ لانے کی کوشش ہے،غنڈہ ایکٹ سے انگریز کی کالونیز والی سوچ پروان چڑھ رہی ہے، غنڈہ ایکٹ کا مطلب کسی کو بھی بیان دینے پر گرفتار کرلیا جائے گا،پنجاب حکومت کیسے شناختی کارڈ،پاسپورٹ یا بنیادی انسانی حقوق چھین سکتی ہیں