ٹرمپ ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ پھر موخر
اسحاق ڈار ، وٹکاف کی باضابطہ تصدیق،پاکستان کے ذریعے پیغامات پہنچائے جا رہے :وزیرخارجہ،ہم نے15 نکاتی ایجنڈا شیئرکیا:خصوصی ایلچی، ایران نے 10تیل بردارجہازوں کو گزرنے دیا،جن پرپاکستانی پرچم تھے ،یہ ہمارے لئے تحفہ:ٹرمپ ،6اپریل تک انرجی پلانٹس پر حملے روک د ئیے
واشنگٹن ( خصوصی رپورٹ )امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیات پر حملے مزید 10 روز تک روکنے کا اعلان کردیا،پاکستان کے ذریعے امریکا،ایران مذاکرات جاری، ٹرمپ ’’ غیر مشروط سرنڈر ‘‘ سے 15 نکات پر آگئے ٹرمپ کا کہناتھاکہ امریکا نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے ،ایران معاہدہ کرنے کی بھیک مانگ رہا ہیجبکہ مشرقِ وسطیٰ کیلئے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ 15 نکاتی امن معاہدہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والی پاکستانی حکومت کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ۔یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ طور پر پاکستان کا نام لیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کے 15 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہاکہ وہ6 اپریل تک ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روک رہے ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ اقدام ایران حکومت کی درخواست پر کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے توانائی تنصیبات پر حملے 5 روز کیلئے روکنے کا اعلان کیا تھا جس کی مدت آج جمعہ کے روز ختم ہونا تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے اور فیک نیوز میڈیا کی جانب سے جاری خبروں کے برعکس یہ بات چیت عمدگی سے جاری ہے۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران کہاکہ اب ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے جوہری عزائم کو مستقل طور پر ترک کرے اور ایک نئے راستے پر چلنے کا انتخاب کرے۔ دیکھیں گے کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر نہیں کرنا چاہتے تو ہم ان کیلئے سب سے بڑا خوف بن جائیں گے، تب تک ہم اپنے حملے جاری رکھیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ایک ممکنہ آپشن ہو سکتا ہے، انہوں نے اس کا موازنہ وینزویلا کے ساتھ کیا، جہاں امریکا نے نیکولس مادورو کو ہٹانے کے بعد تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھایا تھا۔صدر ٹرمپ نے کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک آپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے راستے دس تیل بردار جہازوں کو گزرنے دے رہا ہے، جو مذاکرات میں حسنِ نیت کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے وضاحت کی کہ انہوں نے پہلے اس واقعے کو ایران کی طرف سے ایک تحفہ قرار دیا تھا۔ امریکی صدر کے مطابق ایران نے کہاکہ ہم یہ دکھانے کے لئے کہ ہم سنجیدہ اور مستحکم ہیں، آپ کے آٹھ تیل کے جہاز جانے دیں گے، آٹھ بڑے جہاز، آخرکار یہ تعداد دس ہو گئی اور یہ جہاز غالباً پاکستانی پرچم والے تھے۔ خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر "پندرہ نکات پر مشتمل ایک فہرست" ایران کو بھیجی ہے اور اس کے آثار مل رہے ہیں کہ تہران معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ایک مغربی سفارتکار نے کہا کہ امریکا نے جنگ کے مذاکرات میں "زیادہ سے زیادہ مطالبات" والا موقف اختیار کیا ہے اور اس بارے میں شبہات ہیں کہ آیا واشنگٹن واقعی جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا صرف وقت خرید رہا ہے تاکہ مارکیٹوں کو استحکام دیا جا سکے حالانکہ وہ ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکا کے 15 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا ہے اور اب اسے امریکا کے جواب کا انتظار ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکی نکات کو بدھ کی رات سینئر ایرانی حکام اور ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے نے تفصیل سے دیکھ لیا تھا ، یہ صرف امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو پورا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فی الحال امن مذاکرات کیلئے کوئی حقیقت پسندانہ منصوبہ موجود نہ ہونے کے باوجود سفارت کاری ختم نہیں ہوئی۔ایک باخبر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مندرجہ ذیل شرائط رکھی گئی ہیں کہ دشمن کی جارحیت اور قتل و غارت کی کارروائیاں بند کی جائیں،ایسے حالات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ جنگ دوبارہ نہ ہو۔ہرجانہ اور جنگی معاوضہ کا واضح طور پر تعین ہونا چاہئے اور اس کی ضمانت دی جائے۔خطے میں ایران کے اتحادیوں اور پراکسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام محاذوں اور خطے میں مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائیاں ختم کی جائے۔ایرانی عہدیدار نے تسنیم نیوز ایجنسی کو یہ بھی بتایا ہے آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری اس کا فطری اور قانونی حق ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکااور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت اسلام آباد کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کی صورت میں ہو رہی ہے جبکہ ترکی اور مصر جیسے دیگر ممالک بھی ثالثی کے اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔ تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں،فی الحال ہماری پالیسی مزاحمت جاری رکھنے اور ملک کا دفاع کرنے کی ہے اور ہمارا کوئی ارادہ مذاکرات کرنے کا نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15نکات پر مشتمل امن پلان کو مسترد کرنا اور جنگ بندی کیلئے اپنی شرائط بیان کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران مذاکرات میں اپنے موقف پر زیادہ اعتماد رکھتا ہے۔امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے باوجود، جن میں ایران کے اعلیٰ حکام مارے گئے اور بھاری مالی نقصان ہوا، ایران کا حکومتی نظام برقرار ہے اور وہ اپنے ہمسایہ ممالک اور اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے ہرمز کے تنگ راستے پر جہاز رانی روکنے کی صلاحیت دکھا کر تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عالمی معیشت کے ایک بڑے حصے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔راس ہیریسن، جو مشرقِ وسطٰی کے امور پر کام کرنے والے تھنک ٹینک کے سینئر محقق اور "ایران کی خارجہ پالیسی کی تشریح" کے مصنف ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ ایرانی رہنما اس وقت خود پر کافی اعتماد کر رہے ہیں۔ تہران مذاکرات پر شکوک و شبہات رکھتا ہے اور ممکنہ حملے کے خلاف روک تھام پیدا کرنا چاہتا ہے۔یہ روک تھام اس طریقے سے ہوگی کہ ایران امریکا اور عالمی معیشت کو اتنا نقصان پہنچائے کہ ٹرمپ یا اسرائیل دوبارہ ایران پر بمباری کرنے سے پہلے دو بار سوچیں۔ہیریسن کے مطابق ایران کی حکمت عملی امریکی حکمت عملی سے زیادہ سیدھی اور واضح ہے کہ نظام کی بقاء اور مستقبل میں کسی حملے کے امکانات کو ختم کیا جائے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ فی الحال تمام فریقین میں بہت زیادہ دکھاوا اور حوصلہ مندی دیکھی جا رہی ہے، اور ایرانی رہنمائوں کو اپنے اقدامات میں حد سے تجاوز کرنے سے بچنے کی ضرورت ہے۔