ایک بچے کیلئے کپڑے خریدیں تو دوسرے کیلئے پیسے نہیں بچتے :صائمہ‘ پہلے جو چیزیں پانچ ہزار میں آتی تھیں اب دس سے پندرہ ہزار میں آتی ہیں:نائلہ
مہنگائی اور وقت کی کمی کی وجہ سے بہت سے افراد نے آن لائن خریداری شروع کردی ہے‘ہم گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں:دکانداروں کی گفتگو
لاہور(رپورٹ:شہزاد راجپوت‘عکاسی زبیر محفوظ)عید الفطر کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں بازاروں میں چہل پہل اور رش میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی شہری عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کر رہے ہیں لیکن شدید مہنگائی نے عوام کی خوشیوں کو پھیکا کر دیا ہے۔ کئی شہری خریداری کی نیت سے بازاروں میں آتے ہیں مگر قیمتیں دیکھ کر خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے متوسط اور نچلے طبقے کے لیے عید کی تیاریوں کو ایک چیلنج بنا دیا ہے۔ کپڑے، جوتے، چوڑیاں، مہندی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ خاص طور پر بچوں کے کپڑوں اور جوتوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔لاہور کے ایک مقامی بازار میں خریداری کے لیے آئی ایک خاتون صائمہ نے بتایا بچوں کے لیے کپڑے لینے آئے تھے مگر قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ایک بچے کے لیے کپڑے خریدیں تو دوسرے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ نائلہ نے کہا پہلے جو چیزیں پانچ ہزار میں آ جاتی تھیں۔ اب وہی دس سے پندرہ ہزار میں مل رہی ہیں۔مہنگائی صرف خریداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ تاجروں کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ خریدار آ تو رہے ہیں مگر خریداری نہیں کر رہے۔ ایک دکاندار کے مطابق عید سیزن پر عام طور پر سیلز میں اضافہ ہوتا تھا لیکن اس بار گاہک زیادہ تر قیمتیں پوچھ کر ہی چلے جاتے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے مہنگائی کے ساتھ ساتھ بجلی، کرایوں اور دیگر اخراجات میں اضافے کی وجہ سے وہ بھی کم منافع میں کاروبار کرنے پر مجبور ہیں۔مہنگائی اور وقت کی کمی کی وجہ سے بہت سے افراد نے آن لائن خریداری کا رخ کر لیا ہے۔