کنیزبتول کھوکھر
جب انسان انسان نہ رہا
خاموش گفتگو کے بیبس قلم کی ایک پکار
کبھی کبھی انسان ایسے واقعات سنتا ہے کہ زبان خاموش ہو جاتی ہے قلم کانپنے لگتا ہے اور آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتی ہیں 22 جون سرگودھا میں ایک معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعہ نے صرف ایک خاندان کو نہیں پوری انسانیت کو زخمی کر دیا ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین بھی شرمندہ ہو اور آسمان بھی اپنے رب سے انصاف کی فریاد کر رہا ہو‘یہ صرف ایک بچی پر ظلم نہیں تھا انسانیت کے چہرے پر لگا ایسا بدنما داغ ہے جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے ایسے مناظر دیکھ کر دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ قیامت خود بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری تھی‘افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے واقعات اب خبر بن کر رہ گئے ہیں چند دن شور مچتا ہے سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر اٹھتی ہے پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے سی سی ڈی سے کچھ مجرم تو کیفر کردار تک پہنچ جاتے ہیں لیکن ایک ماں کی گود ہمیشہ کے لیے اجڑ جاتی ہے ایک باپ کی کمر ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتی ہے اور ایک معصوم بچی کا بچپن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے
ہم آخر کس معاشرے میں زندہ ہیں؟ محرم الحرام جیسے مقدس مہینے کا احترام بھی ہمارے دلوں سے رخصت ہو گیا ہے وہ دین جس نے معصوم جان کی حرمت کو پوری انسانیت کی حرمت قرار دیا اس کے ماننے والے آج ایسے ظلم پر خاموش کیوں ہیں؟ کیا ہمارا اسلام صرف نام کا رہ گیا ہے؟ اگر ہمارے کردار میں قرآن اور سیرتِ نبوی کی تعلیمات نظر نہیں آتیں تو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے درندوں کے خلاف محض بیانات نہیں بلکہ مؤثر اور فوری قانونی اقدامات کیے جائیں۔ ایسا نظام قائم ہو جو مظلوم کو فوری انصاف دے اور مجرم کو ایسی سزا ملے جو دوسروں کے لیے عبرت بن جائے جب تک سزا کا خوف حقیقی نہیں ہوگا، ظلم کے یہ سلسلے رکنا مشکل ہیں
اس ظلم کا ایک اور بھیانک چہرہ بلیک میلنگ ہے کتنی ہی بچیاں لڑکیاں اور خواتین خاموشی سے ظلم سہتی رہتی ہیں کیونکہ انہیں دھمکی دی جاتی ہے کہ ان کی تصاویر یا ویڈیوز پھیلا دی جائیں گی میری ان سب بہنوں سے گزارش ہے کہ خوف کے حصار کو توڑ دیں۔ اگر کوئی آپ کو بلیک میل کر رہا ہے تو خاموش نہ رہیں اپنے گھر والوں قابلِ اعتماد افراد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں۔ مجرم کی طاقت آپ کی خاموشی ہے اور آپ کی ہمت اس کی شکست
ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر ہمارے علم میں ایسے عناصر ایسے گروہ یا ایسے جرائم آئیں تو انہیں چھپانے کے بجائے قانون کے حوالے کریں ظالم کا ساتھ صرف وہ نہیں دیتا جو اس کے جرم میں شریک ہو، بلکہ وہ بھی دیتا ہے جو جانتے ہوئے خاموش رہتا ہے
ہمیں اپنے معاشرے کی ان رسموں پر بھی نظرثانی کرنی ہوگی جنہوں نے نکاح جیسے آسان عمل کو مشکل بنا دیا ہے جب جائز راستے میں بے جا رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں تو معاشرہ مختلف اخلاقی اور سماجی برائیوں کا شکار ہوتا ہے صاحبِ حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ فضول رسم و رواج ختم کرنے میں پہل کریں تاکہ نکاح آسان ہو خاندان مضبوط ہوں اور نوجوان پاکیزہ راستہ اختیار کر سکیں
آج یہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں پوری قوم کا امتحان ہے۔ اگر آج بھی ہم نہ جاگے اگر آج بھی ہم نے اپنی ذمہ داریاں نہ پہچانیں تو کل کوئی اور معصوم کلی مسل دی جائے گی کوئی اور ماں عمر بھر روتی رہے گی اور ہم پھر صرف تعزیتی پیغامات لکھتے رہ جائیں گے
آئیے عہد کریں کہ ہم ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے مظلوم کا ساتھ دیں گے اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں گے دین کی اصل تعلیمات کو اپنائیں گے اور ایک ایسا معاشرہ تعمیر کریں گے جہاں کسی معصوم بچی کی چیخ آسمان تک نہ پہنچے
اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو ہدایت دے ہر معصوم کی حفاظت فرمائے، مظلوموں کو صبر عطا فرمائے اور ہر ظالم کو دنیا و آخرت میں عبرتناک انجام تک پہنچائے آمین