شراب پر پابندی کیوں ضروری ہے؟

رفیع احمد
     10،فروری2026ء￿  کو سندھ اسمبلی کے ہندو برادری کے رکن محترم انیل کمار نے قرار داد پیش کی کہ "صوبے بھر میں شراب خانوں کے اجازت نامے منسوخ کیے جاہیں، شراب خانوں اور اس کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کی جائے۔"وزیر داخلہ ضیا الحسن النجار جو کہ مسلم برادری اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، اس قرارداد کی مخالفت کی اور اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی سے قرارداد کو اکثریت سے مسترد کروایا۔وزیر داخلہ نے اس موقع پرکہا کہ شراب کی پابندی سے معاشرے کے مختلف طبقے متاثر ہونگے، وزیر موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ کون کون سے طبقے متاثر ہونگے؟اقلیتی برادری ہندؤ، عیسائی، سکھ وغیرہ اپنے ساتھ شراب کے استعمال یا جوڑنے کو اپنے لیے ندامت  کا باعث سمجھتے ہیں۔ان کے مذہبی پیشواؤں کا کہنا ہے کہ ہمارے مذہب میں بھی شراب نوشی کی سختی سے ممانعت آئی ہے لیکن بد قسمتی سے حکومت اقلیتوں کے نام کو استعمال کرتے ہوئے شراب کی خرید وفروخت کے اجازت نامے جاری کرکے ہمیشہ ہمیں ہزیمت کا شکار کرتی ہے۔
    ہماری حکومت ایک طرف منشیات کے خلاف قانون سازی اور اس کے روک تھام کی پالیسی بناتی ہے تو دوسری طرف شراب خانوں کے اجازت نامے جاری کرتی ہے یہ دوہرا معیار نہیں ہے تو کیا ہے؟ آئین پاکستان کی دفعہ 37(ایچ) میں لکھا ہے کہ "ریاست عوام میں شراب نوشی اور منشیات کی حوصلہ شکنی کرے گی۔" اس آئین کے آرٹیکل کے تحت 1979ء￿  میں صدر جنرل ضیاء￿  الحق نے شراب نوشی پر پابندی عائد کردی تھی۔" اس پابندی کے تحت شراب نوشی کرنے والے کو 80، کوڑے، تین سال کی سزا یا قید و جرمانہ یا دونوں مل سکتی ہیں۔ اسلام میں یہ بات واضح ہے کہ تمام برائیوں کی جڑ شراب نوشی کو کہا گیا ہے یعنی اس کو " ام الخبایث" کیا گیا ہے، یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ شراب عقل کو زائل کر دیتی ہے، شراب نوشی کرنے والا اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو کر جھگڑالو، خود غرض،  چوری، جھوٹ، زنا کاری اور قتل کرنے سے بھی دریخ نہیں کرتا ہے، شراب نوشی کرنے والے بہت جلد دیگر خطرناک نشوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں، دیکھا جائے تو شراب نوشی شیطانی فعل ہے، اس میں ماں،بہن، بیٹی اور بیوی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے، آج کل طلاق کی شرح میں اضافے کی وجہ یہ شرابی حضرات بھی ہیں۔ طبی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو شراب سب سے پہلے جگر پھر دل، معدے،فالج اور دماغی افعال کو متاثر کرتی ہے۔ حاملہ عورت اگر شراب نوشی کرے گی تو اس کے یہاں پیدا ہونے والا بچہ نقائص والے ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں یعنی آنے والی نسل بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ ان تمام خوفناک وجوہات کی وجہ سے اسلام سمیت دیگر مذاہبِ نے بھی شراب نوشی کو پسند نہیں کیا ہے۔ سندھ حکومت کا شراب نوشی کی دکانوں کو اجازت نامے دینے کا جواز یہ بھی پیش کرتی ہے کہ اس کی فروخت سے سالانہ ساڑھے آٹھ ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس 35،ارب روپے کا قیمتی زرمبادلہ اسمگلنگ کر کے شراب منگوائی یا داخل ہوجاتی ہے۔ 13،دسمبر 2025ء￿  کو گڈانی کے ساحل سمندر سے 3500، غیر ملکی شراب کی بوتلیں پکڑی جس کی مالیت 37، ارب روپے بنتی ہے۔ہماری حکومت کو سوچنا چاہیے کہ چند ارب روپے کے ریونیو حاصل کرنے کے چکر میں شراب اسمگلنگ کی وجہ سے کی گنا زیادہ ہمارا قیمتی اثاثہ کالے دھن میں تبدیل ہو کر بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے جو ملکی سالمیت کے لیے خطرناک بات ہے۔ حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادری کے لیے واین شاپ کھولی جاتی ہیں، حکومت کی یہ بات اگر درست بھی مان لی جائے تو کتنے ہزار غیر مسلم شراب نوشی کرتے ہونگے؟ چند ہزار کے لیے اندرون سندھ میں 120، سے زائد اور صرف کراچی میں 80، سے زائد واین شاپ غیر مسلموں کے نام سے کھولی ہوئی ہیں،اگر دیکھا جائے تو شراب نوشی کرنے والوں میں 2،فی صد غیر مسلم شراب نوشی کرتے ہیں تو 98، فی صد مسلم استعمال کرتے ہیں، ان تمام باتوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ سندھ حکومت شراب نوشی اور اس کی خرید وفروخت کی روک تھام میں ذرا برابر بھی مخلص نظر نہیں آتی ہے۔ رکن اسمبلی محترم انیل کمار مبارک باد کے مستحق ہیں اور وہ اراکین اسمبلی جہنوں نے قرار داد کی مخالفت میں اپنا کردار ادا کیا وہ اللّہ کے عذاب سے ڈریں۔ 
      اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے زیر نگرانی ایک غیر جانب دار بورڈ تشکیل دیا جائے جو تمام اراکین اسمبلی کا "بلڈ الکحل ٹیسٹ" کرے، ان کی دماغی و نفسیاتی حالت کا جائزہ لیاور اس کی رپورٹ عوام الناس کے سامنے رکھے۔ہماری عوام کو بھی چاہیے کہ ایسے اراکین اسمبلی کا چناؤ کریں جو احکام الٰہی کے پابند ہوں، غیر مسلم رہنماؤں کو چاہئے کہ ہر وہ سطح پر شراب کی مخالفت میں بولیں،لکھیں اور احتجاج کریں، شراب کے حق میں بولنے والے اراکین اسمبلی کا  سماجی اور سیاسی بائیکاٹ کریں۔حکومت وقت کو ذرا بھی خوف خدا ہے تو وہ فوری طور پر شراب خانے مکمل بند کرے، شراب نوشی کرنے والوں اور اس کے اسمگلروں کو سخت سزائیں دی جائیں۔ہم یہ بات سمجھ لیں کہ خاتمہ شراب میں انسانیت کی بقا ہے۔