ایران نے امریکۃ اور اسرائیل کا غرور خاک میں ملادیا

محمد قیصر چوہان
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سے دنیا تیسری ہولناک عالمی جنگ سے بچ گئی۔لیکن امریکی صدر ٹرمپ جو دنیا کو جنگوں سے نجات دلانے کا وعدہ کرکے برسر اقتدار آئے اور نوبل انعام کے دعویداربھی ہیں نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے جدید ترین بمبار طیاروں کے ساتھ ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بناکر ثابت کیا کہ امریکا دہشت گردی کا عالمی چمپئن ہے جبکہ اسرائیل ایک ناجائز اور دہشت گرد ریاست ہے البتہ مشرق وسطیٰ میں ایران نے امریکی اڈوں پر حملہ کر کے عالمی طاقت امریکا کا غرور خاک میں ملادیا جبکہ اسرائیل پربراہ راست میزائلوں سے حملہ کرکے غاصب صیہونی حکومت کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم بھی توڑ دیا۔ دوسری جانب ایران کے اندر داخلی شعور اور حکومت کے عزم کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان12روز تک جاری جنگ کے بعد ایران میں فتح کا جشن ، ہزاروں شہری قومی پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ، اسرائیل میں بھی شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کیلئے ثالثی میں قطر نے اہم کردار ادا کیا ، قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے کہا کہ امریکی صدر نے ان سے ثالثی کیلئے درخواست کی تھی، جس کے بعد ایران کی اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کیلئے کوشش کی۔ اسرائیل خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اور یورپی یونین سمیت عالمی برادری نے جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ روس اورچین نے امید ظاہر کیا ہے کہ سیز فائر پائیدار ہوگی۔ایران اسرائیل جنگ تو رک گئی مگر کئی مسائل پائیدار امن کے متقاضی ہیں۔اس لیے مذاکرات ضروری ہیں،جن کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تاحال سامنے نہیں آیا۔ انسانی فکر کا سب سے اہم نکتہ مظلوم فلسطینیوں کی حالت زار ہے ،جن کا اسرائیل مسلسل قتل عام کررہا ہے اور امریکا اس کی پشت پر ہے۔ عالم انسانیت کو فلسطینیوں کی بقا کے متعلق ترجیحی بنیادوں پر سوچنا چاہئے۔بلاشبہ انٹرنیشنل دہشت گرد اسرائیل کا غزہ کو تباہ و برباد اور مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے بعد ایران پرحملہ اور بعد ازاںایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی فضائی حملہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین ترین خلاف ورزی تھی۔اس طرح کے حملے سے اقوام متحدہ کی اساس اور بین الاقوامی قانونی ڈھانچے کی حرمت متاثر ہوئی ہے۔ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی واحد طاقت ایران نہیں بلکہ اسرائیل ہے جس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور اس نے کبھی اپنی ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
 ایران میںامریکا کی رجیم چینج والی خواہش پوری نہیں ہو سکی۔ البتہ ایران اور اسرائیل اس جنگ میں نقصان بھی اٹھا چکے ہیں، ایران کی کئی قابل توجہ فوجی تنصیبات اور ایٹمی تنصیبات تباہ ہوئیں یا انھیں شدید نقصان پہنچا، سائنسی تحقیق، ترقی اور یورنیم کا ذخیرہ بنانے کی صلاحیت محدود ہوئی۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل اور ایرن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور دونوں ممالک میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ اسرائیل کے شہری بھی ہوائی حملوں میں محفوظ نہ رہ سکے۔امریکا کا کردار اس بحران میں بہت اہمیت کا حامل رہا۔ صدر ٹرمپ نے براہِ راست فوجی مداخلت کی اور ایران کے تین اہم ایٹمی مراکز پر حملے کرائے، ان حملوں نے تہران کی ایٹمی پروگرام کو وقتی طور پر سست کردیا، مگر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ ’’ جنگل کی گھاس‘‘ کا طریقہ تھا، یعنی بے ترتیب اور وقتی روک جو دوبارہ جیسے ہی وقت آئے زندہ ہو سکتی ہے۔جیمز ایکٹون اور جیفری لیوس جیسے ماہرین نے واضح طور پرکہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی سامان، مطلوبہ یورنیم اور سائنسی مہارت موجود ہے، جو چند مہینوں میں اسے دوبارہ اس مقام پر پہنچا سکتی ہے جہاں وہ حملوں سے قبل تھی۔ یہ واضح ہے کہ امریکا حملوں سے ایران کا ایٹمی پروگرام پوری طرح تباہ نہیں ہوا، حملوں نے اس کے چھپے ہوئے مراکز کو وقتی طور پر نقصان پہنچایا ہے، مگر نگرانی نہیں کی گئی اور زیرزمین نقصانات کی تصدیق ہونا ابھی بھی باقی ہے۔ آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ فردو جیسے انڈرگراؤنڈ مرکز کی تباہی کی تصدیق فی الحال ممکن نہیں، لہٰذا امریکا کا دعویٰ کہ ایران کا ایٹمی منصوبہ بطورِ’’ اصل ختم‘‘ ہوگیا، بہت حد تک مبالغہ محسوس ہوتا ہے۔کیا امریکا ایران مذاکرات کا در دوبارہ کھلا جائے گا، یہ اہم سوال ہے،اس تناظر میں کہ رواں برس اپریل سے دو طرفہ امریکی ایرانی جوہری مذاکرات جاری تھے، جو شاید کچھ پیش رفت کے ساتھ یکم جون کو اختتام پذیر ہو رہے تھے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات مستقل ہوں گے یا جنگ کے شعلوں کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے امکانات رہیں گے؟ کیا موجودہ سکون عارضی ہے؟ ایران نے کہا ہے کہ حملے جاری رہے تو وہ فوری طور پر جوابی رد عمل دے گا۔ اسرائیل نے بھی خبردارکیا ہے کہ موجودہ حالات میں اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی، تو تازہ جوابی کارروائی ہوگی۔ایسے میں خفیہ حکمت عملی ،امریکی ثالثی اور خلیجی ممالک بشمول قطر کے ساتھ تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ جنگ بندی سے خطے کو وقتی استحکام ملا ہے مگر اثرات دائمی نہیں ہیں۔ اگر اعتماد سازی اور خارجی ضمانتیں نہ آئیں تو جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑک سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو اسرائیل اور امریکا کو لگام ڈالنا ہو گی۔کیو نکہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں کی دھجیاں اگر اسی طرح اْڑائی جاتی رہیں تو خطے میں بھڑکنے والی آگ، آگ لگانے والوں کے آشیانوں کو بھی جلا کر خاکستر کر سکتی ہے۔