مقتولہ سعدیہ والدین کی اکلوتی اولاد تھی، تیز دھار آلے کے وار مارا گیا،رشتے کی آڑ میں جائیداد کا معاملہ بھی موجود تھا
مقتولہ کا چچا زاد بھائی جاوید اقبال مرکزی ملزم قرار ، حراست میں لے لیا گیا،قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی :ڈی پی او ارسلان زاہد
ننکانہ صاحب،بچیکی (ڈسٹرکٹ رپورٹر،سٹی رپورٹر)رشتے سے انکار یا جائیداد کی لالچ؟ 17 سالہ میٹرک کی طالبہ گھر میں ہی سفاکانہ قتل، چچا زاد بھائی جاوید اقبال گرفتار۔تفصیلات کے مطابق تھانہ بڑاگھر کے نواحی گاؤں برخوردار میں 17 سالہ میٹرک کی طالبہ سعدیہ بی بی کو مبینہ طور پر تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی سرکل، ایس ایچ او تھانہ بڑاگھر اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ کرائم سین یونٹ اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اور نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں مقتولہ کے چچا زاد بھائی کو مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر واقعہ رشتہ نہ دینے کے تنازع کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم تحقیقات کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پررشتے کی آڑ میں جائیداد کا معاملہ بھی موجود تھا، جس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔اہل خانہ کے مطابق مقتولہ والدین کی اکلوتی اولاد تھی اور اسے تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کیا گیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ارسلان زاہد نے کہا ہے کہ متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا اور واقعہ میں ملوث ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے