سلمان احمد قریشی
قدرتی آفات اور حادثات سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتامگر ان سے بچاؤ ضرور ممکن ہے۔ یہ ایک سادہ مگر تلخ حقیقت ہے جسے دنیا کی مہذب اور باشعور اقوام نے برسوں پہلے تسلیم کر لیا۔ زلزلے ہوں یا سیلاب، طوفان ہوں یا شدید برف باری، آتشزدگی ہو یا موسمی شدت، قدرت اپنے اصولوں پر عمل کرتی ہے۔ مگر انسان اگر عقل، منصوبہ بندی اور اجتماعی شعور کو ساتھ ملا لے تو نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں قدرتی آفات انسان کے لیے ایک مستقل چیلنج ہیں۔ اسی لیے ذمہ دار ریاستیں پیشگی منصوبہ بندی کرتی ہیں، انفراسٹرکچر کو مضبوط بناتی ہیں، ریسکیو اور ریلیف کے اداروں کو جدید آلات سے لیس کرتی ہیں اور سب سے بڑھ کر عوام میں شعور اجاگر کرتی ہیں۔ وہاں حکومت الرٹس جاری کرتی ہے تو عوام ان پر عمل کرتی ہے۔ خطرے کے وقت جذبات نہیں، ضابطہ اور نظم غالب آتا ہے۔
جاپان اس کی روشن مثال ہے۔ زلزلہ وہاں معمول کی بات ہے مگر زلزلوں کے باوجود انسانی جانوں کا نقصان نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ جاپان میں قدرت مہربان ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہاں عمارتیں زلزلہ پروف ہیں، اسکولوں اور دفاتر میں باقاعدہ مشقیں ہوتی ہیں، جدید وارننگ سسٹم موجود ہیں اور عوام جانتے ہیں کہ خطرے کے لمحے میں کیا کرنا ہے۔ اسی طرح یورپ اور امریکا میں شدید برف باری، برفانی طوفان اور سیلاب معمول ہیں مگر بروقت سڑکوں کی بندش، ٹریفک کنٹرول، مضبوط شہری منصوبہ بندی اور عوامی تعاون بڑے سانحات کو جنم نہیں لینے دیتا۔
پاکستان میں مسئلہ قدرتی آفات نہیں، بلکہ ہمارا اجتماعی رویہ اور حکومتی کردار ہے۔ یہاں صورتحال نہ عالمی معیار کے مطابق ہے اور نہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ تعمیرات سے لے کر ٹرانسپورٹ تک، شہری منصوبہ بندی سے لے کر سیاحت تک، موسم سے آگاہی سے لے کر گھروں سے نکلنے کی تیاری تک کسی بھی مرحلے پر سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ ایڈونچر کے شوق کو بہادری، قانون شکنی کو زندہ دلی اور غفلت کو قسمت کا نام دے دیا جاتا ہے۔
حکومت سمندر میں نہانے سے منع کرتی ہے، خطرے کے الرٹس جاری کیے جاتے ہیں مگر عوام کی بڑی تعداد انہیں نظرانداز کر دیتی ہے۔ جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو سوال صرف حکومت سے کیا جاتا ہے، عوامی رویے اور قانونی خلاف ورزی پر بات کم ہی ہوتی ہے۔ میڈیا بھی اکثر جذباتی مناظر دکھا کر ذمہ داری پوری سمجھ لیتا ہے مگر یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ آخر قانون توڑنے والا ہر شخص ہیرو کیوں بنا دیا جاتا ہے؟
کراچی کا گل پلازہ اسی اجتماعی بے حسی کی علامت ہے۔ غیر قانونی تعمیرات، کمزور نگرانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سوالات اٹھتے رہے۔ سابق میئر فاروق ستار کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھیں مگر جب سانحہ پیش آیا تو اصل مجرموں کے احتساب کے بجائے سیاسی شور و غوغا شروع ہو گیا۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جن ہاتھوں سے لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت ہوئی، وہی ہاتھ عوامی ہمدردی کے آنسو بھی بہاتے نظر آئے۔
مری کا سانحہ بھی ہماری یادداشت کی کمزوری اور نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ماضی میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، دعوے کیے گئے مگر آج بھی حالات بنیادی طور پر مختلف نہیں۔ حالیہ شدید برف باری کے باعث مری میں سیاحوں کا داخلہ بند کرنا پڑا۔ خیبر پختونخوا کی وادی تیراہ میں برف باری کے دوران گاڑیوں کا پھنس جانا اور ریسکیو آپریشن کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم آج بھی ہنگامی ردِعمل پر زندہ ہیں، پیشگی منصوبہ بندی پر نہیں۔
لوئر چترال کے علاقے ڈومیل میں ایک گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد کی موت اور ایک بچے کے شدید زخمی ہونے کا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ شدید برف باری کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات آئیں مگر سوال یہ ہے کہ خطرناک علاقوں میں رہائش، تعمیرات اور موسمی خطرات سے متعلق آگاہی کیوں مؤثر نہیں۔۔۔؟ پنجاب کے پی ڈی ایم اے کے مطابق مری اور گلیات میں 18 انچ تک برف پڑ چکی ہے، سڑکیں بند ہیں مگر ہر سال انہی مناظر کا دہرانا ہمارے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سیاسی بیان بازی، الزامات اور پوائنٹ اسکورنگ سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ قدرتی آفات کو سیاست کا ایندھن بنانے کے بجائے قومی مسئلہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جانوں کا تحفظ کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں، بلکہ ریاست اور عوام دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
حل واضح ہیں مگر عمل ناپید ہے۔سخت تعمیراتی قوانین اور ان پر بلاامتیاز عملدرآمد، جدید وارننگ سسٹمز، ریسکیو اداروں کو وسائل اور اختیار، اسکولوں اور سیاحتی مقامات پر باقاعدہ تربیت اور سب سے بڑھ کر میڈیا کے ذریعے مسلسل عوامی شعور بیدار کرنے کی مہم یہ سب ناگزیر ہیں۔ عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قانون توڑنا بہادری نہیں، اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالنا ہے۔
قدرتی آفات آسمان سے آتی ہیں مگر اموات زمین پر ہماری غفلت سے ہوتی ہیں۔ جب تک ہم شعور کو دفن کرتے رہیں گے، یہ قبریں بنتی رہیں گی۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم کب سمجھیں گے کہ قدرت سے نہیں، اپنی بے حسی سے لڑنے کی ضرورت ہے؟