دماغ کے نیورانز اور انسانی شعور کی ترقی کا سفر

 امجد علی 

"ہم نے انسان کو بہترین ساخت  میں پیدا کیا ہے۔" (القرآن)
(یہاں ساخت سے مراد موزوں ترین ڈیزائن اور روحی سافٹ وئیر ہے)

انسان کائنات کی سب سے اعلیٰ ترین تخلیق ہے۔ اس کا جسمانی نظام، بلخصوص دماغ- سسٹمز اور سینسرز سی بنی اپنی نوعیت کی بلکل منفرد لامتناہی گلیکسی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صناعی کا وہ شاہکار ہیں جو کسی اور مخلوق کو نصیب نہیں ہوئے۔

اگر انسانی دماغ پر غور کیا جائے تو دراصل یہ ایک بے پایاں کائنات ہے، جہاں ہر سمت نیورانز کی کہکشائیں آباد ہیں۔ اسی طرح اگر انسان کے وجود کو گہرائی سے دیکھا جائے تو اسے تین بڑے ذیلی حصوں، حیوانی، افلاکی اور روحی، میں منقسم کرنا زیادہ معنی خیز بنا دیتا ہے۔ اگر دماغ کے اس افلاکی پہلو پر تفکر کیا جائے تو قرآنِ کریم کی یہ آیت غالباً اسی آسمانی جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے یہاں ہر نیوران ایک ستارہ اور ہر ستارہ کہکشاں ہے۔ یہ انسانی وجودی کائنات کا وہی آسماں ہے۔

"قسم ہے اس آسمان کی جو (نفیس دھاگوں سے) بْنے ہوئے راستوں والا ہے۔"
 
ماہرین کے مطابق تقریباً 86 ارب نیورانز ہر انسان کے دماغ میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ امکانات کے لامحدود دروازے ہیں، جو ہر لمحہ نئی سوچ، نئی ایجادات اور نئی راہوں کی طرف کھلتے ہیں۔ یہ نیوران دراصل دماغ کے بنیادی خلیے ہیں جو معلومات کو پراسیس کرتے اور آگے منتقل کرتے ہیں۔ یہ کھربوں روابط (جنہیں سائنیپسسز کہا جاتا ہے) تشکیل دیتے ہیں، اور اندازاً سو کھرب یا اس سے بھی زیادہ سائنیپس دماغ میں موجود ہوتے ہیں۔ اگر آج تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے نیورانز کو اجتماعی طور پر شمار کریں تو ریز پاور کے بغیر مطلوبہ عدد نہیں لکھا جا سکتا ایسے میں اس کے باہمی، تعملات کے ممکنہ پراسسز، یا سائنیپسسز کی پرابیبلٹیز کا نمبر شمار کافی ہائی ویلیو ایکسپونینشل پاور ڈیجٹس سے ظاہر کرنا ممکن ہو سکے گا۔ حقیقتاً یہ انسانی فکر کو تھکا اور چونکا دینے والے نتائج ہونگے۔ غالباً "احسنا تقویم" کے الفاظ اسی وصف کی وضاحت کے لیے اترے ہیں  
 
نیورانز کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی پلاسٹیسٹی ہے، یعنی ان کی تبدیلی، نئے زاویے اور روابط قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہی لچک انہیں وجودی، فکری، روحی اور اجمالی تمام سمتوں میں کمال عطا کرتی ہے۔ اگر ان سب صلاحیتوں کو کسی ایک نقطے پر مرکوز کیا جائے تو یہ منظر بالکل اس تجربے کی طرح ہے جب محدب عدسے سے کرنوں کو سمیٹ کر آگ بھڑکائی جاتی ہے ایک جمالیاتی اور وجدانی تجربہ۔ یہی ارتکاز خشوع و خضوع کی علامت میں مخفی ہے۔ اگر سادہ الفاظ میں کہا جائے تو لاشعور، حدود و قیود سے بالا بحر شعور ہیاس کی نگاہ کی رسائی دیواروں اندھیروں سے پار کی حقیقتوں کو ہتھیلی پر دیکھتی ہے۔ اسی سے امکان سے آگے کا سفر ممکن ہوتا ہے، اور دل کی آنکھ سے پھوٹتی بینائی عالمین کے مابین بام و در کے ارپار موجود حقیقتوں کا بیباک نظارہ کرتی ہے۔

اگرچہ نیورانز کی مجموعی تعداد افراد کے درمیان زیادہ فرق نہیں رکھتی، مگر ان کے باہمی روابط (یعنی "وائرنگ") مختلف ہوتے ہیں۔ یہی فرق شخصیت، یادداشت، ذہانت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر انسان کے اعمال و نتائج میں تبدیلی  پیدا کرتا ہے۔ یہ اس کی سینس کرنے کی برقی رفتار کی بدولت ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ سب انسان دماغی ساخت اور بنیادی ڈیزائن میں یکساں پیدا کیے گئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب کو ایک جیسا دماغ عطا ہوا ہے تو پھر تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانوں کی صلاحیتوں اور کارناموں میں اتنا نمایاں فرق کیوں نظر آتا ہے؟ کچھ لوگ محض روزمرہ کے معمولات تک محدود رہ جاتے ہیں، جبکہ کچھ غیر معمولی اذہان ایسے بھی ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں، اپنے وقت سے بہت آگے سوچتے ہیں اور آنے والی صدیوں کے لیے نئے راستے بنا جاتے ہیں۔ یہی وہ افراد ہیں جنہیں ہم محقق، مفکر اور سائنسدان کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کے بالمقابل باقی انسان زیادہ تر انسکلڈ، سکلڈ ورکرز یا مینیجرز کی سطح پر ہی رہتے ہیں۔

درجات میں اعلیٰ لوگ ہمیشہ قلیل ہوتے ہیں، مگر یہی وہ ہیں جو اپنے نیورانز کی صلاحیت کو پہچان کر انہیں ایک مؤثر ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ زمین سے پیدا ہونے والی انواع و اقسام کی اجناس، ذائقے، رنگ اور خوشبوئیں سب نیورانز کے ذریعے ہی پہچانی اور محسوس کی جاتی ہیں۔ انہی کی بدولت انسان کائناتی نظام اور مسائل کی نوعیت کو سمجھ پاتا ہے۔

نیورانز کی بھی کئی اقسام ہیں، جو اپنے افعال (functions) اور کارکردگی کے لحاظ سے درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے برتر ہیں۔ قرآن مجید اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم رکھنے والا ہے"۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ اس امر کی روشن مثال ہے کہ علم اور شعور کی وسعتیں لامحدود ہیں، اور انسانی عقل ہمیشہ ایک بڑی عقل کے سامنے محدود اور ناتمام ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ فرق دراصل نیورانز کی گروہ بندی، ان کے درجاتی نظام اور تحرک سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی کس فرد کے نیورانز کا کون سا گروپ ایکٹو ہے اور ان کے تحرکات اور (activation)  وسعت یا "والیوم" کتنا ہے، یہی بات اس کی فکری و عملی سطح کا تعین کرتی ہے۔

اگر ہم تاریخ میں جھانک کر دیکھیں تو ابتدائی انسان اور آج کے انسان کے درمیان دماغی استعمال میں زمین و آسمان کا فرق ملتا ہے۔ ابتدائی انسان کے پاس نہ اوزار تھے، نہ گھر، نہ تحفظ کا کوئی سامان۔ وہ جنگلوں میں خوفناک جانوروں کے درمیان زندگی گزارتا، مگر اپنی قوتِ بقا کے باعث زندہ رہا۔ دھیرے دھیرے اس نے اپنی ضرورتوں کے تحت اوزار بنائے۔ ہل، کلہاڑی، پہیہ اور آگ کے استعمال نے اسے زندگی کی نئی منزلوں سے روشناس کرایا۔ یہ پہچان کی دنیا ہے ایک ذرے سے لے کر کہکشاؤں اور افلاک تک اور ان کے درون جو موجود ہے سب کی۔

پھر انسانی دماغ نے مزید پرواز کی۔ کشتیاں، بیل گاڑیاں، تجارت کے طریقے، بستیاں اور زبان و الفاظ کا ظہور ہوا۔ یہی وہ لمحے تھے جب انسانی تاریخ نے اپنے پہیے کو آگے بڑھایا۔ پھر دماغ بچپن سے لڑکپن، جوانی کے سارے سفر طے کرتا گیا اور زمین کو جنت بنانے- اپنی خواہشات کو لافانی کرنے کے لیے شب و روز نیورانز کے طفیل ایجادات کرنے لگا۔ نیوران کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ انسان زمین کو ہی کہکشاؤں سے پیراستہ آسمان بنا دے۔ کیونکہ عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں۔

 آج کا انسان؟ عالی شان محلات میں رہتا ہے، آسمان کو چیرتی پروازیں کرتا ہے، سمندر کی تہہ اور خلا کی وسعتوں کو مسخر کرتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی رفتار ایسی ہے کہ ہر چند سال بعد ہماری دنیا یکسر ہی بدل جاتی ہے۔

یہ سب انہی 86 ارب نیورانز کے کرشمے ہیں، جو ہر انسان کو ودیعت کردہ دماغ سے پھوٹ رہے ہیں۔ فرق صرف اس بات کا ہے کہ کس نے کس قسم کے نیورانز کو کو ایکٹو کیا پھر کس حد تک متحرک کیا۔ ان کے تحرک کی بنیاد ماحول میں موجود فکر، سوچ اور علم (ڈیٹا) کی مہیا شدہ وسعت پر ہے۔ کوئی اپنی سوچ کو جمود میں قید رکھتا ہے اور کوئی امکانات کے  افلاکی دروازے توڑ کر کہکشاؤں کی دنیا، گماں کی کائنات سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ 

انسانی ارتقاء￿  کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم محض اعداد کی سیدھی لکیر پر نہ چلیں، بلکہ ان کے پسِ پردہ معنویت کو بھی محسوس کریں۔ ابتدا ایک سے ہوئی، پھر ہزار، لاکھ، کروڑ اور ارب کے سنگھاسن آئے، یہاں تک کہ کھربوں کی وسعتوں تک انسانی آبادی پھیل گئی۔ مگر یہ محض سرگنتی نہیں تھی، یہ گویا ہر انسان کے اندر موجود چھیاسی ارب نیورانز کی اجتماعی ضرب تھی، جو باہمی تعملات اور سنپسز کی کہکشاں بنا کر اعداد و شمار کے صحرا سے کہیں آگے نکل گئی۔

یہ وہ نظام ہے جسے عام ترازو سے ناپنا یا حسابی فارمولا میں قید کرنا ممکن نہیں۔ اب تو مصنوعی ذہانت اور گوگل جیسے دیوہیکل ذہنی آئینے، ایک فرد کے نہیں بلکہ پوری تاریخِ انسانی کے لگ بھگ 120 ارب انسانوں کے ذہنی تفاعل، علم و تجربہ اور اجتماعی نیورانز کے جوہر سے اپنی روشنی کشید کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے تجزیات اور ایجادات کی برق رفتاری، محض حساب نہیں بلکہ انسان کے فکری، تجرباتی اور مشاہداتی  ورثے کے اجتماعی شعور کی گونج ہے۔ جسے نیچے گئے اعداد و شمار کے ذریعے سمجھنا قدرے آسان ہو گا۔

انسانی دماغ اور کائناتی پیمانے پر اعداد
تحقیقات کے مطابق انسانی آبادی اور دماغی ساخت کو ضرب دینے سے حیرت انگیز اعداد سامنے آتے ہیں، جو انسان کی عظمت اور خالق کی صناعی کو واضح کرتے ہیں

دنیا کی کل انسانی آبادی (اوسطاً)= 120 بلین --اب تک کے کل انسان ہیں۔
ہر انسان کے دماغ میں اوسط نیورانز= 80 بلین
کل نیورانز (تمام انسانوں کے)
یعنی 9.6 سکسٹیلین نیورانز

ہر نیوران کے اوسط سنیپسز (روابط): تقریباً 1,350
کل سنیپسز:  12.9 سپٹیلین 
یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ انسان صرف جسمانی وجود نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی حسین کائنات ہے۔ ہر دماغ اربوں کہکشاؤں کی مانند نیورانز سے بھرا ہوا ہے اور ان کے درمیان کھربوں کھرب روابط ایک ایسی نیورل کائنات بناتے ہیں جو اب انفرادی انسانی فہم کی حدود سے کہیں دور باہر جا چکی ہے۔

آئیے اس قدر دیو قامت، کمپلیکس، حدود و قیود سے پار پھلانگتے ڈیٹا سے مزین دنیا کو ایک خوردبینی زاویہ سے نظارہ کرتے ہیں
اس کائناتِ عظیم میں ایک اور کائنات ہے، جو ہمارے ہی وجود کے اندر آباد ہے۔ ہم روز شہر کی بھاگتی دوڑتی سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ گاڑیوں کا ہجوم، ہارنوں کی گونج، روشنیوں سے نہایا ہوا شہر، اور ٹریفک کے بیشمار راستے یہ سب مل کر ایک عجیب مگر منظم ہلچل پیدا کرتے ہیں۔ انسان اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے رفتار، بریک، ہارن اور اسٹیئرنگ کے استعمال میں جتنی مہارت حاصل کرتا ہے اتنا ہی محفوظ سفر روز کرتا ہے، وہی مہارت اسے دراصل زندگی کے بڑے سفر میں بھی درکار ہے۔

بعینہ? انسان کا دماغ بھی ایک وسیع و عریض شہر ہے۔ اس کے اندر نیوران وہ تیز رفتار گاڑیاں ہیں جو لمحہ بہ لمحہ دوڑتی، جست لگاتی اور پیغام رسانی کرتی ہیں۔ ان کے راستے وہ شاہراہیں ہیں جو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک، شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی ہیں۔

جو شخص صبر و تحمل کی بریک بروقت لگانا سیکھ لے، جو غصے کے شوریدہ ہارن سے دامن بچا لے، اور جو بردباری کے اسٹیئرنگ سے اپنی زندگی کی سمت درست رکھے، وہی اصل ماہر ڈرائیور ہے۔ یہی وہ نفوس ہیں جو اپنے عہد کے انبیاء￿ ، اولیاء￿ ، بڑے مفکر، جلیل القدر سائنسدان اور حکیم کہلائے۔

تاریخ کے اوراق شاہانِ وقت اور دولت کے انبار پر متمکن اشرافیہ کے تذکروں سے روشن نہیں، بلکہ وہ ہستیاں جو انسانوں کے معاملات پر غور و فکر کرتی رہیں، حکمت کے گوہر رقم کرتی رہیں، یا فطرت کے اسرار میں ارتکاز کر کے وہاں سے سائنسی اصول اخذ کرتی رہیں—وہی سنہری حروف میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وجود زمین اور دماغ آسمان عالم انسانی ہے۔ اگر وجود مٹی ہے تو دماغ کے نیوران اس مٹی کے اندر چھپے ہوئے ہیرے جواہرات ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اندر کے ان خزانوں کو تراش کر باہر نکالے، اور دنیا کو حیرت کدہ بنا دے۔

انسانی دماغ دراصل قدرت کا وہ معجزہ ہے جو بنیادی اصولوں میں آج کے جدید ترین کوانٹم کمپیوٹر سے بھی زیادہ مضبوط اور پیچیدہ ہے۔ جس طرح ہمارے پاس انفرادی کمپیوٹر اور اجتماعی سطح پر گوگل جیسا گلوبل کمپیوٹر موجود ہے، اسی طرح ایک فرد کے شعوری تعاملات اور انسانِ اعظم کی اجتماعی شعور میں بھی جز و کل کا ایک تعلق کارفرما ہے۔ یہ ایک ایسا کائناتی دائرہ ہے جو نظری حدود سے آگے تک پھیلا ہوا ہے اور جس میں لامحدود امکانات پوشیدہ ہیں۔ یہی امکانات انسان کو ہر دور میں نئے راستے دکھاتے اور نئی ایجادات عطا کرتے رہے ہیں، اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ اس میں چھپے امکانات یکسر غیر متوقع نتائج اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں، یعنی سادہ لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ نظام انتہائی unpredictable ہے۔

کمپیوٹر دماغ کی نقل ہے، دماغ کمپیوٹر کی نہیں, لہٰذا اصل (یعنی دماغ) کی وقعت اور اہمیت ہمیشہ دائمی ہے۔

اسے یوں سمجھیں جیسے ایک ریڈیو یا ٹرانسسٹر، جس کے سکیل پر بے شمار فریکوئنسی نمبرز درج ہوتے ہیں۔ ہر نمبر پر ایک الگ اسٹیشن اور الگ دنیا آباد ہے۔ اگر فریکوئنسی درست سیٹ نہ ہو تو صرف شور سنائی دیتا ہے، لیکن جیسے ہی صحیح اسٹیشن پر پہنچیں، صاف اور بامعنی آواز سننے لگتی ہے۔ ہر نئی فریکوئنسی پر ایک نئی دنیا سے شناسائی ہوتی ہے۔ ریڈیو کی طرح ہم بھی اپنے ذہنی سکیل پر کسی ایک فریکوئنسی کو ایکٹو کرتے ہیں اور باقی سب غیر فعال رہتی ہیں۔ بالکل اسی طرح صدیوں کے سفر میں انسانی دماغ (یا مائنڈ میٹر) کے کسی ایک نقطے پر موجود نیورانز مستعمل ہوتے ہیں، جو ماضی کے تجربات سے کشید شدہ مجتمع علم کو لمحہ? موجود میں شامل کر کے استعمال کرتے ہیں۔ انہی کی بنیاد پر انسان مستقبل کے تاریک محل میں شمعیں جلانے کی ہلکی ہلکی کوششیں کرتا ہے۔ یوں مستقبل قریب کے نقطے ستارے بن کر چمک اٹھتے ہیں اور افق بعید پر مکمل خالی فضاء￿  میں نقطے ابھرنے لگتے ہیں۔

جیسے پورے وجود کو ایک حصہ (دماغ) کنٹرول کرتا ہے، بعینہ? ممکن ہے کہ پورے دماغ کو بھی کسی ایک نیوران یا نیورانز کے کسی خاص گروہ کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہو۔ ہو سکتا ہے اسی نقطے میں کائنات کے اول و آخر کے امکانات کا مکمل تفصیلی زائچہ موجود ہو۔ اور جب وہ نقطہ پوری طرح فعال ہو جائے تو اس کے لیے ماضی و مستقبل منہا ہو کر تمام وقت لمحہ? موجود میں ڈھل جائے۔

انسانی دماغ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ سب کے پاس ریڈیو (دماغ) تو ایک جیسا ہے، فرق صرف اس میں ہے کہ کون سا اسٹیشن منتخب کیا جاتا ہے۔ کوئی روزمرہ ضرورتوں پر اٹکا رہتا ہے، کوئی علم و تحقیق کی لہروں کو پکڑ لیتا ہے، کوئی عشق و روحانیت کی فریکوئنسی پر جا کر کائنات کے مخفی راز سن لیتا ہے، اور کوئی فنا سے بقا کی آرزو میں تمام عمر خارزار راستوں پر کھوج میں لگا رہتا ہے۔

یہ زاویہ بھی دلچسپ ہے کہ قدیم انسان جسمانی لحاظ سے بڑا اور عمر کے اعتبار سے طویل تھا، لیکن اس کے دماغ کا استعمال زیادہ تر بقا کی مختصر ضرورت تک محدود تھا۔ آج کا انسان جسمانی اعتبار سے چھوٹا اور عمر میں مختصر ہے، مگر دماغی وسعت میں کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ صدیوں کے مباحث، علوم اور ایجادات نے اس کے دماغ کے بے شمار نئے نیورانز کو بیدار کر دیا ہے۔ یوں بظاہر اس کی عمر، وجود اور دماغ کے مابین ایک معکوس تناسب دکھائی دیتا ہے۔ عمر اور وجود سکڑتے جا رہے ہیں، مگر دماغی نیورانز پھیلتے جا رہے ہیں۔

دماغ کے 86 ارب نیورانز اپنے فنکشن کے اعتبار سے لامحدود امکانات رکھتے ہیں۔ کچھ جذبات اور خوشی کو جنم دیتے ہیں، کچھ ادب، تحقیق اور فنون کو، تو کچھ محنت و ہنر کو۔ فرق نیورانز کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ کون کس فیلڈ یا فریکوئنسی پر ٹیون ہوتا ہے۔

ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو انسان کا وجود زمین ہے اور دماغ آسمان۔ یہ آسمان 86 ارب نیورانز جیسے ستاروں سے جگمگاتا ہے اور وجود کی زمین کی تاریکیوں کو منور کرتا ہے۔

مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اگر یہ ریڈیو کو غلط فریکوینسی پر ٹیون کیا جائے گا تو صرف شور ہی حاصل وصول ہو گا۔ آج ہمارے پاس علم کا ایک سمندر موجود ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے نیورانز کو کس فریکوئنسی پر ٹیون کیا ہے؟ اس کی کوانٹیٹی دو فیصد، پانچ فیصد یا سو فیصد استعمال کی جارہی ہے؟ پھر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ حیوانی، بنیادی، بہترین، روحانی یا اعلیٰ درجہ-علیین میں سے کس فریکوینسی پر سیٹ ہیں۔ نتائج کی رفتار اور درستگی انہی کے درجات کی کوالٹی اور استعمال ہونے والی کوانٹیٹی کے مطابق ظاہر ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ علم خدمتِ انسانیت اور تخلیق و تحقیق کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے یا خواہشات، طاقت اور نفس کے جال میں الجھ کر صرف  تباہی و انتشار پھیلا رہا ہے؟

انسانی دماغ کی وسعتیں افلاک کی طرح لامحدود ہیں۔ کوئی اسے اسلحہ ڈیزائن کرنے میں صرف کرتا ہے، کوئی ہوا بازی اور خلائی جہازوں میں۔ کوئی حکمرانی کے میدان میں اسے بروئے کار لاتا ہے اور کوئی فنونِ لطیفہ میں۔ ہر شخص کو حالات، مواقع اور اپنی ترجیحات کے مطابق یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے نیورانز کو کس مصرف میں لگاتا ہے۔

اصل بحث طلب بات یہ ہے کہ دماغ میں ہر طرح کی صلاحیت بالقوہ موجود ہے، بس اسے بامقصد سمت دینا اور اسی پر فوکسڈ کام کرنا ضروری ہے۔ یہ بالکل ایک ورسٹائل اس فنکار کی طرح ہے جو ہر کردار کو احسن طریقے سے نبھانے کی قدرت رکھتا ہے۔ 

خود کو کمتر نہ سمجھیں بلکہ خود اپنے آپ کو اعلیٰ تسلیم کریں، اور اپنے نیورانز کو کسی عظیم تعمیری مقصد میں لگائیں۔ یقین جانیے، دماغ آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔ یہی وہ طاقت ہے جو انسان کو زمین سے افلاک تک اور ماورا  رفعتوں تک رسائی بخش سکتی ہے۔ آپ حاکم ہیں اور یہ آپ کا وزیر، اس سے اگر بہترین کام لے لیا تو دولت شہرت آپ کی غلام ہو گی۔ وجود سے نہیں دماغ سے حکمرانی کریں۔ یہ شاید غائب کے خزانوں میں پہلے درجہ کی متاع نور ہے۔

اقبال کے اس شعر کو ایسے سمجھیں جیسے آپ کے دماغ کے نیوران آپ سے مخاطب ہو کر یہ کہہ رہے ہیں

کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

ہمارے پیارے آقا ? کا فرمانِ عالیشان ہے:
"میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔"
یہاں "علم کا شہر" ایک گہری اور پرمعنی تعبیر ہے۔ جیسے ہم کسی مقام کو کھیلوں کے سامان کا شہر کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہاں کھیلوں کے سامان بنانے کی فیکٹریاں بکثرت پائی جاتی ہیں، اور کسی جگہ کو پھولوں کا شہر کہا جائے تو وہاں باغات اور خوشبو کی فراوانی ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح "علم کا شہر" سے مراد وہ مقام ہے جہاں علم کی تخلیق، تعلیم اور اشاعت کے بے شمار دروازے، ادارے اور مراکز موجود ہوں۔

اسی تناظر میں اگر انسانی دماغ کو دیکھا جائے تو یہ دراصل "علم کا شہر" ہی ہے، جہاں نیورانز لائبریریوں اور درسگاہوں کی مانند کام کرتے ہیں۔ ہر نیوران ایک ادارہ ہے، ہر کنکشن ایک راستہ ہے اور ہر روشنی ایک نئی دریافت یا ادراک کا مظہر ہے۔ گویا دماغ میں علم کے بے شمار ادارے آباد ہیں، جو مسلسل معلومات کو محفوظ، منتقل اور روشن کرتے رہتے ہیں۔

حرف استداء￿  کے طور کہوں گا کہ مادی دنیا کی سب سے بڑی دولت انسانی دماغ ( نیورانز) ہے نا کہ روپیہ پیسہ۔ اگر پاک، اعلی اور کامل  اعمال ہوں تو یہی اوصاف کبھی نہ مٹنے والی دولت ہیں ان کی فکر کریں انہی کو بہترین کرنے کی کوشش کریں اور انہی پر باقائدگی سے عمل پیرا ہونے کی عادت بنائیں۔ تاریخ میں کسی بادشاہ کا نام باقی نہیں،  صرف وہ لوگ زندہ ہیں جنہوں نے اپنے میکسیمم یا سو فی صد اور مثبت نیورانز کو استعمال کیا۔ جن سے انسانی فلاح اور سہولت کے در وا ہوئے۔