ان دنوں آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں‘ اس لئے بسنت کے دوران آگ کے واقعات کو روکنے کیلئے خصوصی اقدامات ہونے چاہئیں
قانون پر عمل درآمد ہر شہری پر فرض ہے، تاہم چھوٹے بچوں پر مقدمات بننے سے ان کا مستقبل دا پر لگ جاتا ہے: جسٹس ملک محمد اویس خالد کے ریمارکس
لاہور(آئی این پی)لاہور ہائیکورٹ نے بسنت کے حوالے سے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز کو بدھ کے روز طلب کر لیا۔ عدالت نے بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات سے متعلق آگاہی مہم کے لئے ڈی جی پی آر اور سکولز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو بھی عدالت میں طلب کرلیا ۔ جسٹس ملک محمد اویس خالد نے کیس کی سماعت کی ،سپیشل سیکرٹری ہوم فضل الرحمان سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار احمد عدالت میں پیش ہوئے۔ سپیشل سیکرٹری ہوم فضل الرحمان نے رپورٹ پیش کی ،عدالت نے سپیشل سیکرٹری ہوم کو ہدایت کی کہ بسنت کے حوالے سے تشکیل دی گئی کمیٹی کا اجلاس 27 جنوری کو منعقد کیا جائے اور آئندہ سماعت پر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ریمارکس دئیے بسنت تہوار کے موقع پر کوئی حادثہ نہیں ہونا چاہیے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے سپیشل سیکرٹری ہوم کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔ جسٹس ملک محمد اویس خالد نے استفسار کیا کہ بسنت کے موقع پر کون سے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں؟ جس پر سپیشل سیکرٹری ہوم نے بتایا کہ گزشتہ دس سال کے ڈیٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے ریڈ، ییلو اور گرین زون تشکیل دیے گئے ہیں، جبکہ موٹر سائیکلوں پر راڈ لگانے کے لئے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔ سینئر منسٹر کی زیر نگرانی اعلی سطحی کمیٹی قانون سازی سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ ایک الگ کمیٹی حفاظتی اقدامات کا بھی جائزہ لے رہی۔۔ جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ریمارکس دیئے کہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے میڈیکل کیمپس ہونے چاہئیں اور ان کیمپس میں ایمرجنسی ڈاکٹر بھی موجود ہوں۔ جس سڑک پر حادثہ ہو وہاں فوری ایمرجنسی سہولت ہونی چاہیے تاکہ بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔ ان دنوں آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اس لئے بسنت کے دوران آگ کے واقعات کو روکنے کے لیے خصوصی اقدامات ہونے چاہئیں، قانون پر عمل درآمد ہر شہری پر فرض ہے، تاہم چھوٹے بچوں پر مقدمات بننے سے ان کا مستقبل دا پر لگ جاتا ہے۔ اس پر سپیشل سیکرٹری ہوم نے بتایا کہ چھوٹے بچوں پر مقدمات نہیں بنائے جاتے بلکہ انہیں جرمانہ کیا جاتا ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔