مالک کا انتقال‘ قانونی وارث ازخودمالک تصور ہونگے ‘ نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں سپریم کورٹ

قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے،جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں
اسلام آباد( آن لائن)سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق اہم۔فیصلہ جاری کیاہے جس میں  فیصلہ تحریر کرنے والے سپریم۔کورٹ جج  جسٹس خلیل احمد نے  قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث ازخودمالک تصور ہوں گے اور نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کابیدخلی کا فیصلہ درست قرار دیدیا،سندھ ہائیکورٹ نیکرایہ داروں کودکانیں خالی کر  کے سا ٹھ دن کے اندرمالکان کے حوالے کرنے کا  حکم دیا تھا،اس فیصلے کیخلاف دائراپیل پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اورجسٹس شکیل احمد پرمشتمل دو رکنی بینچ نیسماعت کی، جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کہاگیا اصل مالک کے نتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس دے کر کرایہ اور بقایاجات ادا کرنیکا مطالبہ کیا،کرایہ داروں نے مالک کیانتقال اورجنازیمیں شرکت کا اعتراف کیامگرقانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا،نوٹس کے باوجود کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا، قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کے خلاف بیدخلی کی درخواست دائرکی،کرایہ داروں کا موقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونا ادائیگی تصور نہیں ہوتا،قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے،جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔