عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں اپنی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کر دی ہیں، جن میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیلوں پر حتمی فیصلہ آنے تک سزا کو کالعدم قرار دے کر ضمانت پر رہا کیا جائے۔

یہ اپیلیں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہیں، جنہوں نے اپنے موقف میں کہا کہ نیب نے بدنیتی کے تحت اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور جلد بازی میں سزا سنائی۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا کہ نیب نے تفتیش نامکمل کی اور نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) سے معاہدے کا متن حاصل نہ کیا جس سے تفتیشی ایجنسی کی ہچکچاہٹ ظاہر ہوئی۔وکیل نے مزید کہا کہ NCA حکام کو تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا اور استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ اپیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ احتساب عدالت کے 17 جنوری کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کیا جائے۔

اس کے علاوہ، اپیل میں کہا گیا کہ نیب نے توشہ خانہ گراف سیٹ اور بلغاری سیٹ کیسز میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا، اور ایسے مقدمات صرف درخواست گزاروں کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اپیل میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ عدلیہ سیاسی انتقام کے تحت بنائے گئے مقدمات کا خاتمہ کرے تاکہ انصاف کے اصول بحال ہوں۔