اسلام دین فطرت!!!

 ابوالبرکات شاذ قاسمی

اسلام دین فطرت ہے اس میں ایسی روشن اور واضح تعلیمات  ہیں جو عین  انسانی ضرورتوں اور بشری تقاضوں کے موافق ہیں۔ انسان کا ظاہر و باطن جن ضروری چیزوں سے تکمیل پاتا ہے اسلام اپنے اندر وہ ساری قیمتی چیزیں اور اجزاء￿  ترکیبی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام اپنے دور اول سے لے کر آج تک عربوں کے علاوہ دیگر اقوام عالم میں بھی تیزی سے مشہور ہوا۔مختلف قوم و نسل  کے لوگوں نے اسلام کی انہیں خوبیوں کے  بنا پر اپنے دل سے لگایا اور حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔ رفتہ رفتہ روئے زمین کا کوئی ایسا خطہ یا گوشہ باقی نہ رہا جہاں اسلام کی صدائے بازگشت نہ سنائی دیتی ہو۔ روئیزمین کے اکثر حصوں پر براہ راست مسلمانوں کی حکومت ہو گئی یا ان لوگوں کی حکومت ہو گئی جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی یہاں تک کہ ہم جس سرزمین پر ہیں یہاں بھی اسلام کی روشن کرنیں ساڑھے آٹھ سو سالوں تک اپنی ضو فشانی کرتی رہیں اور آج بھی کر رہی ہیں۔
مذہب اسلام انہیں روشن تعلیمات کے بنا پر محبوب خلائق بنا اور دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلتا رہا ان تعلیمات کو آج بھی اختیار کرنے پر وہی انقلاب وہی تبدیلی وہی محبوبیت اور وہی طلسماتی کشش پھر سے واپس لوٹ سکتی ہے۔جو دور اول کے مسلمانوں کے اندر پائی جاتی تھی اور جس کا مشاہدہ ہم کو تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے وقت ہوتا ہے۔
اسلام کی روشن تعلیمات میں اخلاق و آداب کی تعلیم دی گئی ہے اور زندگی گزارنے کا پورا دستور العمل  بتایا گیا ہے معاشی تعلیمات کے اندر سود اور دھوکہ کو حرام بتا کر مال کو گردش میں رکھنے اور نیکی کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ معاشی تعلیمات کے تحت نکاح و طلاق کے احکام ، پردہ کی اہمیت ، والدین  کے حقوق، والدین اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک وغیرہ کی تعلیم دی گئی ہے سیاسی تعلیمات میں بتایا گیا ہے کہ دین میں زور زبردستی نہیں ہے۔ناحق قتل حرام ہے مال آبرو اور عزت کو تحفظ حاصل ہے اور چوری و زنا  جیسے سنگین جرائم پر سزا مقرر ہے بین قومی تعلیمات میں  عدل و انصاف امنِ عالم ، مذہبی رواداری اور معاہدہ کی پاسداری جیسے امور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اخلاقی تعلیمات میں صداقت و دیانت ،حیا ،صبر، عدل اور ایفائے عہد پر آمادہ کرنے کے ساتھ جھوٹ ،ظلم، کینہ و حسد چغلی ، بدگمانی، بخل، غرور اور بے حیائی کے کاموں سے روکا گیا ہییہ اسلام کے وہ روشن تعلیمات ہیں جو صرف مذہب اسلام کے ماننے والوں کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا میں پیدا ہونے والے ہر فرد بشر کے لئے ضروری ہے انسانیت کی سالمیت  اس کی تحفظ و بقا اسی تعلیم اسلام کی کامل پیروی میں ہے۔ایک پرامن زندگی گزارنے کے لئے ان سب تعلیمات اور اوصاف کا زندگی میں پایا جانا بے حد ضروری ہے کیونکہ اگر دنیا میں امن نہ ہو ہمدردی نہ ہو راست گوئی نہ ہو حیا نہ ہو عدالت نہ ہو عورتوں بوڑھوں معصوموں مجبوروں کے حقوق کی رعایت نہ کی جاتی ہو اگر دنیا ظلم قتل غارت گری لوٹ مار سے بھری پڑی ہو تو انسانی زندگی اجیرن بن جائے گی فتنہ اور فساد برپا ہوگا انسان کی زندگی کا کوئی مقصد باقی نہیں رہے گا اس کیلئیزندگی جینے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہ پائے گی اس لئے انسان کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے فطرت کی طرف لوٹتا ہے اور اس کے فطرت سے جو چیزیں زیادہ قریب ہیں  اسی کو اختیار کرتا ہیمذہب کے اختیار کرنے میں بھی انسان اسی اصول و فلسفہ کا پابند ہے چنانچہ وہ اسی مذہب کو اختیار کرنے میں سبقت کرتا ہے جو  فطری تقاضوں سے قریب ہو۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہی نظام عالم دنیا میں دیر تک باقی رہے گا جو فطری ہو اور مذہب اسلام کی تعلیمات فطری ہیں  انہی فطری اور بے غبار تعلیمات اور روح پرور اصول حیات کا نتیجہ ہے کہ آج بھی 1400 سال گزر جانے کے باوجود اسلام کے مٹانے کے لئے ہر ممکن کوششوں کے باوجود اسلام ہر آن ہر لمحہ ہر وقت ترقی کی طرف گامزن ہے پھیلتا پھولتا چلا جا رہا ہے اور دنیا کے ہرگوشے میں ہر خطے میں ہر قوم و نسل کے لوگوں پر اپنا گہرا نقش چھوڑ رہا ہے۔  
اسلام نے معاشی تعلیمات کو پیش کرتے ہوئے یہ واضح ہدایت دیا ہے کہ آپس میں لوٹ مار کے ذریعے اور غلط طریقے سے مال نہ کھایا جائے اور نہ کمایا جائے قرآن کریم کا ارشاد ہے: یا ایھاالذین آمنوا لا تا?کلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارہ عن تراض منکم (4:29)ترجمہ اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر مت کھاؤ لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے ہو تو مضائقہ نہیں اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے: و اوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم (7:35)ترجمہ : جب تم تو لو تو پورا تولو اور صحیح ترازو سے وزن کر کے دو۔ قرآن و احادیث کا احاطہ کرنے پر ایسی بے شمار آیات و احادیث ملتی ہیں جو معاشی تعلیمات کے لئے اصول اور دستور کی حیثیت رکھتی ہیں یہاں پر صرف نمونہ کے طور پر چند جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں اسلام نے معاشرت کے  لئے بھی ایسے ہی اصول مرتب کئے جو فطرت اور بشریت کے موافق ہیں جس میں حیات جاویدانی کا راز مضمر ہے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے : "یا ایھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثی و جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم "ترجمہ:اے لوگو ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں خاندانوں  اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو تم میں سب سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ہے  جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو اسلام کا سیاسی تعلیم یہ ہے کہ" لا اکراہ فی الدین" دین میں کوئی جبر نہی اسی طرح ایک اور آیت میں سیاسی رہنمائی کرتے ہوئے کہا گیا ہے: 
"ان اللہ یامر بالعدل "ترجمہ :اللہ انصاف کا حکم کرتا ہے سیاست سے ہی جڑی یہ بات بھی ہے کہ 
"و لکم فی القصاص حیاہ یا اولی الباب لعلکم تتقون"  اے عقل والوں قصاص میں تمہارے لئے زندگی پوشیدہ ہے اسی طرح اسلام نے عالمی برادری کے لئے بھی روشن تعلیمات مہیا کیا اسلام کا بین قومی تعلیمات میں سے یہ  ہے کہ زمین میں امن قائم ہونے کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ "لاتفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا" اسی طرح قرآن یا اسلام کسی بھی ناحق قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے "من قتل نفسا بغیر نفس او  فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا و من احیاھا فکانما احیی الناس جمیعا"
( 5:32)ترجمہ : جس نے کسی نفس کو مار ڈالا گویا اس نے سارے انسانوں کو مار دیا سوائے اس کے کہ مقتول نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد مچایا ہو جس نے کسی ایک نفس کی حفاظت کی تو گویا اس نے ساری انسانیت کی حفاظت کی اسی طرح اسلامیات میں اخلاقیات پر بھی موثر اور فطری  درس ملتا ہے کیوں کہ عمدہ اخلاق بہتر معاشرت کے لئے بے حد ضروری ہے قرآن پاک میں ہے :قل للمومنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذالک ازکی لکم (نور:30) ترجمہ : مومنوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے پاکیزگی کی راہ ہے 
یہ چند آیات تو ایک نمونہ ہیں۔ ورنہ قرآن و احادیث اور تاریخ و سیر کی کتابوں پر گہری نظر رکھنے والا بے شمار ایسی آیات و احادیث اور واقعات کی فہرست تیار کر سکتا ہے جن میں انسانیت کو درست خطوط پر لانے اور صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے فطری اور اصولی قوانین وضع کئے گئے ہیں جن میں محبت ہے امن ہے رواداری ہے اخلاق ہے عفو ہے ایفائے وعدہ ہے دیگر مذاھب و ادیان کے حقوق اور انسانیت کی بنیاد پر ان سے رواداری اور حسن سلوک کرنے کا درس ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے ان روشن تعلیمات کو اختیار کیا جائے اور  عملی زندگی میں اس کو برتا جائے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔