انسانی فطرت کا ایک پہلو اختلات رائے

آکاش علی
انسانی فطرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر کسی کو دوسرے سے اختلاف رہتا ہے دراصل اآس میں کوئی برائی نہیں ہے کیونکہ  یہی وہ عمل ہے جو عِلم کو جنم دیتا ہے لیکن اِس میں بحث و تکرار نہیں ہونی چاہیے اگر انسان بحث و تکرار میں خود کو ڈھال لے تو وہ جہالت کی راہ کا مسافر بن جایا کرتا ہے  اِس سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ انسان کسی کی بھی رائے پہ خاموش رہنے کی بجائے  اختلافِ رائے ضرور دیں مگر  تحمل اور دلائل کے ساتھ تاکہ ہر کوئی عآلم سے روشناس ہو سکے نہ کہ کسی کو ذلیل یا کمتر کرنے کے لئے آپ نے اگر دنیا کے مفکروں کو پڑھنے کے بعد  غور کیا ہو تو آپ کو ضرور محسوس ہوا پو گا کہ انہوں نے چند تحریروں میں ایسے  عِلم کو انسانوں کے سامنے پیش کیا جن سے انسانی شعور بیدار ہوا اور شعور ہی ہے جسے آپ عِلم کی آخری حد کہہ سکتے ہیں، دنیا میں ابھی تک وہ لوگ بھی موجود ہیں جو اعلی عہدوں پہ فائز تو ہیں لیکن وہ شعور سے بہت دور ہیں، کسی بھی معاشرے سے  بدنظامی کو مٹانے کے لئے الزام تراشی کرنا ایک دستور ہے جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے لیکن یہ محض جہالت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ  الزام تراشی سے آپ نظام میں کبھی بھی  تبدیلی نہیں لا سکتے البتہ انسانوں کو  حقیقت آشنا ہونے سے ضرور روک سکتے ہیں یا یہ کہہ لیں کہ  اصل انسانی حقوق سے انسانوں کی توجہ کو ہٹانے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جو انسانیت نہیں بلکہ انسانیت کے نام پہ تہمت کا وہ سیاہ دھبہ ہیں جسے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا ہر انسان رائے دینے کا حق رکھتا ہے کیونکہ فطرت نے اسے دماغ جیسی نعمت سے نوازا  ہے جب فطرت کا قانون انسان کو یہ اختیار دے کر دنیا میں سفر طے کرنے کے لئے بھیج دیتا ہے تو پھر یہ کونسی طاقت ہے جو انسانوں کو  حق اور سچ کی آواز بلند کرنے پہ بیاختیار رکھتی ہے؟ زندگی مشکل نہیں زندگی کو مشکل بنا دیا جاتا ہے ہر اس انسان کی زندگی کو جسے جینے سے محبت اور موت کے خوف سے ڈر میں مْبتلا کر دیا جاتا ہے یہ وہ ناانصافی ہے جس کا حل ناممکن نہیں لیکن اسے ممکن ہونے نہیں دیا جاتا صرف اس لئے کہ سرمایہ داری نظام ہمیشہ محنت کش طبقہ پہ قابض رہے مگر یہ پروپیگنڈہ کبھی مستقل قائم نہیں رہا ہے اور نہ رہ سکتا ہے دنیا میں ہر انسان کو اپنے وطن سے حب ہوتا ہے اس لئے کہ  وہ اس وطن میں پیدا ہوا ہوتا ہے اور وطن پرستی کا یہ جذبہ مرتے دم تک انسان  کے اندر سے ختم نہیں ہوتا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب سیاستدان ایک دوسرے پہ تہمت کسنے میں مصروف ہوتے ہیں تو ان کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ کیا سیاستدانوں کے پاس یہی ایک سیاست کرنے کا نظریہ رہ چکا ہے حالانکہ سیاست کا اصل مقصد عالمی سطح پہ اپنے وطن کو ایک باحثیت اور اعلی مقام تک پہنچانا ہوتا ہے لیکن میں نے موجودہ دور میں  آج تک جو دیکھا ہے وہ صرف اتنا ہی ہے کہ سیاستدانوں کے پاس ایک دوسرے پہ تہمت لگانے اور سرمایہ دار کو مضبوط کرنے کے سوا کوئی موضوع ہی نہیں رہا نہ ملک کی معیشت پہ توجہ نہ محنت کش کے لئے کوئی سہولیات کا راستہ بلکہ مفلس اور بے بس انسانوں کو دربدر کی ٹھوکریں اور غربت کی دلدل میں دھنسنے کے بعد انہیں مقدر کے سہارے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ویڑن کی بات کریں تو دور دور تک کوئی ایسی شخصیت دکھائی نہیں دیتی وہ اس لئے کہ جن کے پاس ویڑن ہے انہیں 
سیاست سے اس لئے دور رکھا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے شعور کی بدولت اپنا ایک الگ مقام بنا کر کہیں سب کو پیچھے نہ چھوڑ دیں آپ غور کر لیں محنت کشوں کی آواز کو کیا کسی جگہہ اہمیت دی جاتی ہے یا ان کے بارے میں تبصرے کئے جاتے ہیں یا ان کے حقوق ان تک پہنچائے جاتے ہیں ہرگز ایسا نہیں جو چند ترقی پسند خود کو باکمال سمجھ کر ایک گروہ بنے بیٹھے ہیں انہیں ہی دیکھ لیں کیا انہوں نے عوام کو کوئی ساحر، فیض، جالب ، نِزو دیا ہے جنہوں نے ماضی میں مدتوں عوام اور محنت کشوں کے لئے قیدوبند کی صوبتوں سیگزرنا اپنا مقصد سمجھا اور ہمیشہ عوام کے حقوق کے لئے لکھتے اور آواز بلند کرتے رہے ، نہیں کیونکہ ان کے پاس بھی کوئی ویڑن نہیں ہے صرف خیال پرستی ہے اور خیال پرست کبھی بھی عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتے مجھے افسوس سے سے یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ جدھر دیکھیں اندھیرا دکھائی دے رہا ہے اور وہ روشن خیال سوچ جس کی ضرورت ہے وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی اگر یہ حالات یوں ہی چلتے رہے تو ملک کو مزید کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا اندازہ لگائیں آج ٹی وی پہ بیٹھے اینکرز کو دیکھ لیں 90 فیصد  اینکرز صرف سیاستدانوں کی ایک دوسرے کی  سیاسی  الزام تراشی پہ بحث و تکرار کرتے دکھائی دیں گے اور جو 10 فیصد اینکرز محنت کشوں کی آواز کو آگے پھیلانے میں کوشاں ہیں وہ بھی بات تو کرتے ہیں محنت کشوں کی لیکن انہیں ان کے حقوق سے آگاہ نہیں کرتے جبکہ وہ چاہیں تو عوام کو آگاہ کر سکتے ہیں کہ انہیں اپنے حقوق کے لئے آئین اور قانون نے کیا اختیار دے رکھا ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا "صحافت یہ نہیں کہ آپ یہ بتائیں وہاں کوئی مر گیا ہے بلکہ صحافت یہ ہے کہ آپ یہ بتائیں وہاں کوئی مرنے والا ہے" لیکن یہاں صحافت کا بھی یہی حال ہے کہ کوئی عوام کو یہ بتانے کے لئے تیار ہی نہیں کہ مزید کیا ہوسکتا ہے یا مزید کیا ہونے والا ہے جبکہ درحقیقت صحافت کیا ہے یہ کارل مارکس بتا گیا ہے۔ میں سوچتا ہوں اور آپ یہ یاد رکھئے " اگر انسان کی کہیں بھی موجودگی اسے اِس احساس سے محروم کر دے کہ وہ  موجود ہے تو پھر آپ اسے صرف مردہ ضمیر کا خطاب دے سکتے ہیں"۔ اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ خاموش رہیں یا اپنی رائے  یا اختلافِ رائے دیں  پا پھر اپنی زبان کو 32 دانتوں تلے دبائیں رکھیں۔