روس سے جوہری پروگرام پر بات ہوگئی، امریکا سے بات نہیں کرینگے: ایران

  ایران دبائو، دھمکی یا پابندیوں کے تحت کوئی مذاکرات نہیں کریگا،وزیر خار جہ عباس عراقچی کی پریس کانفرنس
 یقین ہے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی اقدامات اب بھی ٹیبل پر موجود ہیں،روسی وزیر خارجہ
تہران(آئی این پی )ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ براہ راست جوہری مذاکرات کے امکان کو مسترد کر تے ہوئے کہا  ہے کہ جب تک واشنگٹن زیادہ سے زیادہ دبائوکی پالیسی پر عمل پیرا ہے، براہ راست مذاکرات ممکن نہیں، روس سے جوہری پروگرام پر بات ہوگئی ۔ان خیالات کااظہار عراقچی نے تہران میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ روسی وزیر خارجہ سے جوہری پروگرام پر بات ہوئی ہے، مزید بات چیت بھی ہوگی، تہران کسی دبائو اور دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا، امریکا سے براہ راست بات چیت نہیں ہوگی جب تک دبائو موجود رہے گا۔اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ ہمیں یقین ہے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی اقدامات اب بھی ٹیبل پر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ شام کی صورتحال پر عالمی برادری کی مسلسل توجہ کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ میں یوکرین تنازع پر ووٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کی بنیادی وجوہات پر مزید تفہیم ہے۔