آئین پر عملدرآمد ناگزیر شاہد خاقان عباسی نظریہ ضرورت نے نظام برباد کردیا محمود اچکزئی

چیف جسٹس اپنی مرضی سے بینچ نہیں بنا سکتا، مجھے دکھ ہے ہماری سابق جماعت جو جمہوریت کی داعی تھی وہ  آج اقتدار کی داعی ہے:سابق وزیراعظم
 مسائل کی بڑی وجہ عوام کی حق حکمرانی میں عدم شمولیت ہے ، انسان بنیادی طور پہ حق کی حکمرانی میں حصہ چاہتا ہے، جہاں انصاف ہوگا وہاں امن ہوگا:سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان

اسلام آباد (آئی این پی )  عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ   اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے   آج چیف جسٹس اپنی مرضی سے بنچ نہیں بنا سکتا، آئینی مقدمہ نہیں سن سکتا، سوموٹو نوٹس نہیں لے سکتا، آئی ایم ایف جیسا ادارہ بھی مجبور ہوا  چیف جسٹس سے پوچھے عدل کا نظام کیسے چل رہا ہے؟۔ان خیالات کااظہار انہوں نے  اسلام میں منعقد ہ اپوزیش اتحاد قومی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے  کیا ،انہوں نے کہا آئین اور قانون کی بالادستی نہیں ہو گی تو سیاسی انتشار رہے گا، سیاسی انتشار رہا تو ملکی معیشت آگے نہیں بڑھے گی، اپوزیشن قیادت اس بات پر متفق ہے کہ آئین پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں آئین کا لفظ گالی بن چکا ہے، آئین کا لفظ حکومت کیلئے خوف کا باعث بن چکا ہے،  مجھے دکھ ہے کہ ہماری سابقہ جماعت جو جمہوریت کے داعی تھی آج اقتدار کی داعی ہے،سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی  نے  خطاب میں کہا  نظریہ ضرورت نے ہمارے نظام کو برباد کر دیا۔ ملکی مسائل کی بڑی وجہ عوام کی حق حمکرانی میں عدم شمولیت کو قرار دیا۔  انسان بنیادی طور پہ حق کی حکمرانی میں حصہ چاہتا ہے۔  اگست 1947 کو ملنے والی آزادی کے ثمرات نیچے تک نہیں گئے ہیں ہم نے اپنے لوگوں کو حق حکمرانی میں حصہ دار نہیں بنایا امن اور جسٹس جڑی ہوئی اصطلاحات ہیں جہاں انصاف ہوگا وہ امن ہوگا۔