اسلام آباد: پاکستان میں مالی سال 2023-24 کے ابتدائی پانچ ماہ کی اقتصادی کارکردگی کے حوالے سے وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لُک رپورٹ جاری کی گئی ہے۔
رپورٹ میں ملک کی ترسیلاتِ زر، برآمدات اور دیگر اہم معاشی اشاریوں میں بہتری کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق، رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران:
ترسیلاتِ زر میں 33.6 فیصد کا اضافہ ہوا، جس سے مرکزی بینک کے مالی ذخائر 7.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.85 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
برآمدات میں 7.4 فیصد اور درآمدات میں 8.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کُل بیرونی سرمایہ کاری میں 42.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔
ایف بی آر اور نان ٹیکس آمدنی میں بہتری
رپورٹ کے مطابق، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات میں 23.2 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ نان ٹیکس آمدنی میں 101.3 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مالی خسارہ اور زرعی شعبے کی حالت
مالی خسارہ جولائی تا نومبر میں 495 ارب روپے کے سرپلس کی صورت میں رہا۔زرعی شعبے کو قرضوں میں 8.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
افراط زر اور صنعتی پیداوار میں کمی
رپورٹ میں بتایا گیا کہ افراط زر کی شرح جولائی تا نومبر 29.2 فیصد سے کم ہو کر 4.9 فیصد تک پہنچ گئی۔اسی طرح، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5 ماہ میں 0.02 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
مجموعی اقتصادی صورتحال
یہ رپورٹ پاکستان کی معاشی ترقی کی سمت میں ایک مثبت اشارہ فراہم کرتی ہے۔ ترسیلاتِ زر، برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، ساتھ ہی مالی خسارے میں کمی، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت کچھ استحکام کی طرف گامزن ہے۔ وزیر خزانہ اور اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی ترقی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور اقتصادی خودمختاری کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔اس کے باوجود، افراط زر کی شرح اور صنعتی پیداوار میں کمی معاشی ترقی کے مکمل استحکام کے لیے چیلنجز کے طور پر موجود ہیں، جن پر آئندہ مہینوں میں توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔