یہ آپریشنز انٹیلی جنس اطلاعات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں‘پاکستان اپنے لوگوں کی سکیورٹی کیلئے پْرعزم ہے‘ان کارروائیوں کا مقصد پاکستانی شہریوں کو ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں سے بچانا ہے
بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی تجویز زیر غور نہیں‘کسی ایک شخص کے بیانات پر کوئی رائے نہیں دے سکتی‘ امریکی حکام کیساتھ بات چیت جاری رکھیں گے:ترجمان
اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے پاکستان نے افغانستان کے ساتھ بارڈر علاقوں میں آپریشن کئے ہیں۔پاکستان اپنے لوگوں کی سکیورٹی کیلئے پْرعزم ہے، بارڈر کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز آپریشن کئے گئے ہیں اور بارڈر ایریا میں یہ آپریشنز انٹیلیجنس اطلاعات اور ثبوتوں کی بنیادوں پر کئے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کا ان کارروائیوں کا مقصد پاکستانی شہریوں کو ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں سے بچانا ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ گزشتہ دنوں سے ہی رابطے میں ہے اور نمائندہ خصوصی برائے افغانستان صادق خان اس وقت کابل میں موجود ہے، صادق خان نے افغان وزیر داخلہ ، وزیر خارجہ، نائب وزیر اعظم اور دیگر لوگوں سے ملاقات کی ہے اور ملاقاتوں میں سکیورٹی صورتحال ، بارڈر مینجمنٹ اور تجارت پر بات چیت کی گئی۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی خودمختاری اور سالمیت کی عزت کرتا ہے، ہم نے ہمیشہ بات چیت اور سفارتکاری پر توجہ دی ہے۔ سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سرحد پار دہشت گردی کے باوجود ہم افغانستان سے رابطے میں ہیں، پاکستان اور افغانستان سکیورٹی، بارڈر مینجمنٹ، تجارت اور دیگر معاملات پر بات چیت کیلئے رابطہ میں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشی تعاون اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے کوشاں ہیں، اپنے شراکت داروں کے ساتھ اہم علاقائی وعالمی امور پر تعاون کیلئے پر عزم ہیں، یورپین یونین کی جانب سے پی ا?ئی اے کی پروازوں پر پابندی کا خاتمہ اہم پیشرفت ہے۔انہوں نے کہا نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بدلے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوئی تجویز زیر غور ہونے کی تردید کرتے ہوے کہا ہے کہ ایسی کسی تجویز کے حوالے سے دفتر خارجہ آگاہ نہیں ہے ، انہوں نے کہا پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی عزت اور مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔ امید کرتے ہیں کہ امریکی بھی اس بات کا خیال رکھیں گے۔ترجمان نے کہا کسی ایک شخص کے بیانات پر کوئی رائے نہیں دے سکتی۔ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ ہم امریکا سے باہمی احترام ، مساوات ، باہمی مفادات اور ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت پر تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔