پمز نرسری وارڈ آتشزدگی: قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

پمز نرسری وارڈ آتشزدگی: قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

اسلام آباد: پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا گیا ہے، جس میں واقعے کو انتہائی سنجیدہ اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 

توجہ دلاؤ نوٹس پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے جمع کرایا۔ نوٹس میں پمز اسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں معصوم نومولود بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پمز نرسری وارڈ میں آتشزدگی کا واقعہ اسپتالوں میں موجود حفاظتی انتظامات، انتظامی غفلت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے مؤقف اختیار کیا کہ اتنے حساس وارڈ میں جہاں نومولود اور انتہائی نگہداشت کے محتاج بچے موجود ہوتے ہیں، وہاں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کا مؤثر نظام انتہائی ضروری ہے۔توجہ دلاؤ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی سنگینی کے پیش نظر قومی اسمبلی میں فوری بحث کرائی جائے تاکہ آتشزدگی کے اصل اسباب، حفاظتی انتظامات اور واقعے کے دوران اختیار کیے گئے ہنگامی اقدامات سے متعلق حقائق سامنے آسکیں۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ واقعے کے ذمہ دار افراد اور متعلقہ حکام کا تعین کیا جانا چاہیے۔

 اگر کسی سطح پر غفلت، کوتاہی یا انتظامی ناکامی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی نے زور دیا کہ صرف ذمہ داروں کا تعین کافی نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لیے اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، ریسکیو نظام اور عملے کی تربیت سمیت تمام حفاظتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔توجہ دلاؤ نوٹس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پمز سمیت ملک کے دیگر بڑے سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کا جامع آڈٹ کرایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں اور دیگر حساس مریضوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کے دوران متعلقہ وزارت اور حکام سے واقعے کی تفصیلات، تحقیقات اور مستقبل کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں جواب طلب کیے جانے کا امکان ہے۔