بحرالکاہل کے علاقے میں موسمیاتی خطرہ بڑھ گیا ہے جہاں ایک ساتھ تین طاقتور طوفان سرگرم ہو گئے ہیں، جن سے چین، تائیوان اور جاپان کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
جنوبی بحیرہ چین اور شمال مغربی بحرالکاہل میں غیر معمولی موسمی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ماہرینِ موسمیات کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ چین کے محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں اور سمندری طوفانوں کے پیش نظر لیول فور ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے اور ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔تینوں طوفانوں میں گینیری، نارا اور سوڈیل شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوڈیل کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، اور یہ سپر ٹائیفون کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔گینیری طوفان تائیوان کے دارالحکومت تائپے سے تقریباً 320 کلومیٹر دور ہے، جبکہ اس کے مرکز کے قریب ہواؤں کی رفتار ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ شمال مغربی سمت میں بڑھنے کا امکان ہے۔دوسری طرف، نارا چین کے جنوبی علاقوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے، جہاں گوانگشی، ہینان اور گوانگ ڈونگ سمیت کئی علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، سوڈیل سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کے سبب طاقتور ہونے کا خطرہ ہے، اور یہ ریوکیو جزائر سے گزرنے کے بعد مشرقی بحیرۂ چین کی جانب بڑھے گا۔رواں سال موسمیاتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جنوری سے اب تک 20 طوفان بن چکے ہیں، جبکہ معمول کے سال میں یہ تعداد 13 سے 14 ہوتی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تینوں طوفان اور جنوب مغربی مانسون کے مشترکہ اثرات سے چین، تائیوان اور جاپان کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات ہیں۔ حکام نے سمندری سرگرمیوں، فضائی و زمینی نقل و حمل، اور ساحلی علاقوں میں موجود افراد کو خاص احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔