اسرائیل سے بات چیت گناہ ہے، لبنان کی غیر مستحکم صورتحال کو بڑھا سکتی ہے:سربراہ حزب اللّٰہ

 اسرائیل سے بات چیت گناہ ہے، لبنان کی غیر مستحکم صورتحال کو بڑھا سکتی ہے:سربراہ حزب اللّٰہ

لبنانی تنظیم حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے حالیہ بیان میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اپنی سخت موقف کا اظہار کیا ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کرنا لبنان کے مفاد میں نہیں ہے اور اسے گناہ تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے ملک کی غیر مستحکم صورتحال بڑھ سکتی ہے۔ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے اور حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ براہ راست بات چیت کے بجائے بالواسطہ مذاکرات کو ترجیح دیں۔انہوں نے زور دیا کہ مزاحمت جاری اور مضبوط ہے، اور اسے شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ نعیم قاسم نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے اپنی مزاحمت جاری رکھے گی، چاہے دشمن کتنی ہی دھمکیاں دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی صورت میں پیچھے ہٹنے، جھکنے یا شکست کھانے کو تیار نہیں ہیں، اور لبنان کے دفاع کے لیے اپنی مزاحمت کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس بیان کا مقصد حزب اللہ کے موقف کو واضح کرنا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کے خلاف ہیں اور مزاحمت کو اپنا واحد راستہ سمجھتی ہے۔ نعیم قاسم کے مطابق، لبنان کی سلامتی اور استحکام کے لیے مزاحمت ہی سب سے اہم اور موثر طریقہ ہے، اور وہ اسے جاری رکھیں گے۔ اس بیان کو لبنان میں جاری سیاسی اور فوجی حالات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں حزب اللہ اپنی مزاحمت اور علاقائی سیاست میں واضح موقف رکھتی ہے۔