ویب ڈیسک: جسم میں آئرن کی ضرورت سے زیادہ مقدار کو آئرن اوورلوڈ یا ہیماکرومیٹوسس کہا جاتا ہے۔
یہ حالت یا تو جینیاتی بیماری کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے یا پھر زیادہ خون کی منتقلی یا آئرن سپلیمنٹس کا ضرورت سے زیادہ استعمال سبب بنتا ہے۔
زیادہ آئرن کے ممکنہ خطرات:
جگر کے مسائل:
جگر میں اضافی آئرن جمع ہو کر فیٹی لیور، جگر کا بڑھ جانا، یا جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ سروسس بھی ہو سکتی ہے۔
دل کے مسائل:
دل کے پٹھوں میں آئرن جمع ہونے سے ہارٹ فیلئر، بے ترتیب دھڑکن (Arrhythmia) یا کارڈیومایوپیتھی پیدا ہو سکتی ہے۔
ذیابیطس:
لبلبہ میں آئرن جمع ہونے سے انسولین کی پیداوار متاثر ہو جاتی ہے، جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہارمونی اثرات:
پٹیوٹری گلینڈ متاثر ہو کر بانجھ پن یا دیگر ہارمونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
جوڑوں کا درد:
آئرن کی زیادتی جوڑوں میں اثر ڈال سکتی ہے، جس سے آرتھرائٹس جیسا درد محسوس ہو سکتا ہے۔
جلد میں تبدیلیاں:
جلد کا رنگ کانسی یا سیاہ نظر آنے لگتا ہے کیونکہ آئرن جمع ہو جاتا ہے۔