لاہور(نیٹ نیوز ایک ایشیائی ملک نے عام انتخابات میں بدترین ناکامی کے بعد سیاسی جماعت نے قیادت ’’AI‘‘ مصنوعی ذہانت کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔مصنوعی ذہانت آہستہ آہستہ ہر اس انسانی شعبے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ پہلے صرف مختلف صنعت وتجارت سے متعلق شعبوں میں اے آئی کا استعمال ہوا۔ وہاں سے سرک کر یہ تعلیمی اداروں، نیوز اسٹوڈیوز اور کمرہ عدالت تک پہنچ گئی۔حال ہی میں البانیہ میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک اے آئی کو وزیر بنا کر انسانوں پر عدم اعتماد کیا گیا ہے اور اب ایک ایشیائی ملک کی سیاسی جماعت انسانی قیادت سے مایوس ہو کر اپنی جماعت کی سربراہی ’’AI‘‘ کو سونپ رہی ہے۔یہ ملک جاپان ہے، جہاں کی ایک سیاسی جماعت پیتھ ٹو ری برتھ پارٹی نے حالیہ انتخابات میں بدترین ناکامی سے دوچار ہونے اور اس جماعت کے بانی ماروک ایشیمارو کے مستعفی ہونے کے بعد یہ حیرت انگیز فیصلہ کیا ہے۔جاپانی میڈیا کے مطابق پیتھ ٹو ری برتھ پارٹی کی قیادت مصنوعی ذہانت کو سونپے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد AI ماڈل کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔مذکورہ پارٹی کے بانی شنجی ایشیمارو جو مغربی جاپان کے ایک چھوٹے شہر کے سابق میئر ہے، جو غیر متوقع طور پر 2024 کے ٹوکیو گورنر کے انتخابات میں ایک کامیاب آن لائن مہم کی بدولت دوسرے نمبر پر آئے تھے۔اپنی آن لائن مقبولیت کو دیکھتے ہوئے شنجی ایشیمارو نے رواں برس جنوری میں پیتھ ٹو ری برتھ (دوبارہ جنم لینے کا راستہ) پارٹی رکھا۔ اس کے پاس کوئی پالیسی پلیٹ فارم نہیں اور اس کے اراکین اپنا ایجنڈا طے کرنے کے لیے آزاد ہیں۔