پشاور (خصوصی رپورٹ)خیبر پختونخوا میں بدامنی کے بڑھتے واقعات ، صوبائی حکومت نے رواں سال دس ماہ کی رپورٹ مرتب کر لی جس میں 3175 واقعات رونما ہوئے، وزیرستان ،باجوڑ ، کرم ، اورکزئی ، مہمند ، بنوں ، لکی مروت ، ٹانک اور ڈی آئی خان سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران 3175 واقعات میں سے سب سے زیادہ بدامنی کے واقعات وزیر ستان ، باجوڑ ، کرم ، اورکزئی ، مہمند میں رونما ہوئے، بندوبستی اضلاع میں بنوں ، لکی مروت ، ٹانک ، ڈی آئی خان بدامنی میں سب سے زیادہ متاثر ہیں، سرکاری اہلکار دہشت گردوں کا نشانہ رہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران جنوبی وزیر ستان میں 50 ، شمالی وزیر ستان میں 49 ، باجوڑ میں 41 ، خیبر میں 38 ، بنوں میں 48 ، ٹانک میں 33 ، لکی مروت میں 21 ، ڈی آئی خان میں 20 واقعات رپورٹ ہوئے، ان میں کواڈ کاپٹر ، آئی ای ڈی بلاسٹ ، ہینڈ گرنیڈ سے حملے ،ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات شامل ہیں، اس دوران سرکاری ملازمین کے اغوا کے 51 کیسز سامنے آئے۔ بدامنی کے بڑھتے واقعات کے باعث سی پیک منصوبے میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی سکیورٹی بھی چیلنج بن گئی ہے۔