روس کا شدید حملہ، ٹرمپ کا پیوٹن پر پاگل پن کا الزام

روس کا شدید حملہ، ٹرمپ کا پیوٹن پر پاگل پن کا الزام

کیف / ماسکو — روس نے یوکرین پر 300 ڈرون اور 69 میزائلوں کے ذریعے اب تک کا سب سے بڑا حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ حملے یوکرین کے مختلف شہروں پر کیے گئے، جن میں رہائشی اور صنعتی علاقے نشانہ بنے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں اور شہری انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔

 انسانی نقصان:
ہلاک: 13 افراد
زخمی: 60 سے زائد
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرایا، لیکن شدت اور تعداد اتنی زیادہ تھی کہ تمام حملوں کو روکا نہیں جا سکا۔
  ڈونلڈ ٹرمپ کا ردِعمل: پیوٹن پاگل ہو چکے ہیں
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں "پاگل" قرار دیا۔ ایک میڈیا انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا:"پیوٹن صرف یوکرین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورا یوکرین ہتھیانا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ روس کے زوال کا آغاز ہوگا۔"
 زیلنسکی پر بھی تنقید:
ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:"وہ جب بھی بولتے ہیں، مسائل بڑھتے ہیں۔ انہیں خاموش رہنا چاہیے کیونکہ وہ اپنے ملک کے لیے کچھ اچھا نہیں کر رہے۔"
  امریکہ کی ممکنہ پابندیاں:
ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر مزید پابندیوں کی تجویز بھی دی، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی تجویز موجودہ حکومت پر اثرانداز ہو سکے گی یا نہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  صورتحال کا پس منظر:
روس اور یوکرین کی جنگ دو سال سے جاری ہے، جس میں اب تک لاکھوں افراد بے گھر اور ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ تازہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ مزید شدت اختیار کر رہی ہے، جبکہ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔