پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دونوں نے پہلا جائزہ سٹاف لیول معاہدہ طے کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے جاری اعلامیہ کے مطابق اس معاہدے کی باضابطہ منظوری کے بعد پاکستان کو مجموعی طور پر 2.3 ارب ڈالر کی ادائیگی ہوگی۔ اس معاہدے کے حوالے سے پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کی ہیں، اور پاکستانی حکام سماجی تحفظ کو فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہیں۔آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں افراط زر 2015ء کے بعد سب سے کم سطح پر ہے، اور گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان نے مختلف اقتصادی چیلنجز کے باوجود میکرو اقتصادی استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور اقتصادی سرگرمیاں بتدریج بڑھنے کی توقع ہے۔ تاہم، پاکستان کو ماحولیات سے متعلق خطرات کا سامنا ہے، جن پر ابھی کام کرنا باقی ہے۔یہ معاہدہ پاکستان کے لئے اہم قدم ہے کیونکہ اس سے مالی امداد حاصل ہوگی اور اقتصادی استحکام کی جانب پیشرفت جاری رکھی جائے گی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے اس معاہدے کی منظوری پاکستان کے لئے اقتصادی چیلنجز کے باوجود ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔