سہیل کوثر
بہت ہی کرب کے ساتھ میرا قلم یہ کالم لکھ رہا ہے دنیا بھر کے مسلمانوں پر جو اس وقت قیامت صغری برپا کی گئی ہے اس کی مثال تو اج سے 1400 سال پہلے بھی نہیں ملتی جب مسلمان کفار کے ظلم و ستم کے اگے نہ تو کبھی جھکے اور نہ ہی خاموشی اختیار کی بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ ہی کو ترجیح دی کفار کے خلاف ہمیشہ اسلام کا پرچم بلند رہا فتح مکہ ہو یا کوئی اور بھی غزوہ مسلمانوں نے کفار پر فتح حاصل کر کے ان کے بچوں اور خواتین پر کبھی بھی ظلم نہیں کیا فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب تمام کفار جو اس وقت مکہ میں قیام پذیر ہیں ان کو امن کا پیغام ہے ان پر کوئی ظلم و ستم نہیں کیا جائے گا اس کی مثال آج بھی فلسطین کے مسلمانوں نے زندہ کر رکھی ہے جب اسرائیل کے جنگی قیدیوں کو واپس کیا گیا تو ان کے ہر اس جنگی قیدی کا بیان تھا کہ اسلام اور مسلمان ایک عظیم دین اور قوم ہے ان کے جنگی قیدیوں کے ساتھ بھی وہی حسن سلوک رکھا گیا جو میرے نبی نے ہمیشہ کفار کے ساتھ رکھا لیکن اسرائیل جو ایک متنازہ علاقہ ہے غزہ پر جنگ بندی کے اعلان کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر بمباری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے نہتے شہریوں پر جو اپنی افطاری سحری بنانے میں مصروف ہوتے ہیں ان پر وحشیانہ بمباری کرنا اور معصوم شہریوں کو شہید کرنا امت مسلمہ کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے شام لبنان فلسطین عراق کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی دہشت گردی کی دہشت گردی کی جا رہی ہے شام کو مکمل تباہ ایران کو مکمل تباہ برباد کر دیا گیا ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ فلسطین میں بھی نسل کشی کی جا رہی ہے اور عالمی طاقتیں اور مسلم ممالک بھی اس ظلم پر ایسے خاموش ہیں جیسے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں چند سال پہلے میرا ایک کالم اپ کا قارئین کی نظر سے گزرا ہوگا جس میں میں نے ایران بہانہ عراق ٹھکانہ اور فلسطین نشانے کے موضوع پر چند اسطار لکھی گئی تھی جو آج فلسطین کے نشانے پر ہونے کی صورت میں سامنے ہیں مسلمانوں کے پاس اللہ کی دی ہوئی ساری طاقتیں ہیں چاہے وہ پٹرول کی صورت میں ہو یا سرمائے کی صورت میں اور اسلامی واحد ایٹم بم جو کہ پاکستان کے پاس ہے وہ بھی فلسطین کے مسلمانوں کے لیے خاموش ہے سعودی عرب جو فلسطین کے پہلو میں واقع ہے میرا چند ماہ پہلے عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے سلسلہ میں وہاں ایک ماہ قیام کا موقع میسر ایا سعودی عوام کی خوشحالی رزق کی فراوانی اس قدر ہے کہ کسی بھی ہوٹل میں آپ جائیں اپ کو ایک ڈیل جو کہ تین افراد کے لیے کافی ہوتی ہے دی جاتی ہے لیکن ایک فرد اس کو مکمل نہیں کھا سکتا باقی کھانا ضائع کر دیا جاتا ہے ڈرم کر دیا جاتا ہے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو پھل ہم یہاں پاکستان میں مہنگے داموں خرید کر کھاتے ہیں وہاں ایک دن کے بعد کوڑے کے ڈرموں میں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن امت مسلمان اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں وہی کھانا اگر فلسطین کے مسلمانوں کو دیا جائے تو ان کی بھوک کچھ حد تک ختم کیا جا سکتا ہے جو آج کل فلسطین کی جنگی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں ان کو دیکھیں تو فلسطینی مسلمان گھاس کے ساتھ روزہ رکھ اور افطار کر رہے ہیں اتنا ظلم اور اوپر سے تمام مسلمان ممالک کی اسرائیل امریکہ کے ساتھ دوستی اور حمایت اپنی باری کے انتظار کو دعوت دیتی نظر ارہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ بلی سر پر بیٹھی ہے اور کبوتر انکھیں بند کیے ہوئے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں کھائے گا لیکن یاد رکھنے کی بات
یہ بھی ہے کہ اگر ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے جہاد سے منہ موڑا تو امت مسلم یاد رکھے کہ فنا ہو جائیں گے باری باری اس وقت تمام دنیا کے ممالک اور مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ واحد اسلامی ایٹمی پاور ہی کچھ کرے یہی خیال پاکستانی عوام کا بھی ہے لیکن اس وقت پاکستان بھی اپنے معاشی حالات میں دوچار ہے اور دشمن طاقتیں اس کی ایٹمی طاقت اور افواج پاکستان کو کمزور کرنے کے در پہ ہیں بلوچستان میں ائے دن کی دہشت گردی بلوچستان کے غیور عوام کو پاکستان کے خلاف کرنے اور پاکستان سے الگ کرنے کے لیے اپنی طاقت استعمال کر رہے ہیں واصف علی واصف سرکار کا قول ہے کہِ"" پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں"؛ لیکن ضرورت صرف اتحاد اور خدا کے خوف والے حکمرانوں کے حصول کی ہے جو پاکستان کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہوئے دنیا کے تمام مسلمانوں کی کمان کر سکیں لیکن حالات کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر پاکستان کے عوام عرب امارات کویت سعودی عریبیہ مسقط وغیرہ میں اپنے بچوں کی روزی روٹی کے لیے گئے ہوئے ہیں تو وہاں ان کی کتے جیسی عزت نہیں ہے ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے میں یہاں یورپ امریکہ کینیڈا کی بات نہیں کر رہا بات کر رہا ہوں ان مسلم ممالک کی جو مشکل کے وقت پاکستان کی حمایت حاصل کر کے اپنی سلامتی کو قائم رکھے ہوئے ہیں اس میں قصور ہمارے حکمرانوں کا ہے جن کی خارجہ پالیسی صرف اپنی ذات اور حکومت کے تحفظ پر ہی معمور رہتی ہے اور پاکستانی عوامی جو کہ اس وقت پاکستان کے لیے زر مبادلہ کما کر پاکستانی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کو وہاں پر مکمل نظر انداز کر دیا جاتا ہے سعودی عرب کے عوام پاکستان کے خارجی لوگوں پر انڈیا کے شہریوں کو کام دے کر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگر وہاں پر کسی بھی پاکستانی شہری کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو دفتر خارجہ پاکستانی سفیر کوئی خاص توجہ نہیں کرتے جس سے ان لوگوں کو سعودی عوام سے بھی یہ سننا پڑتا ہے کہ اپ کے اپنے حکمران اپ کی بات ہی نہیں سنتے تو ہم کیوں اپ کی حمایت کریں اگر اس وقت ہم نے جہاد اور اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد نہیں کی تو وہ وقت دور نہیں جب یہ وقت ہم پر بھی آسکتا ہے سابقہ وزیراعظم چوہدری شجاعت علی کا ایک بیان مجھے یاد اتا ہے کہ ایک صحافی نے جب ان سے سوال کیا کہ اگر آپ کی انڈیا کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو کیا اپ ایٹم بم چلا دیں گے تو انہوں نے اپنے خاص انداز میں پنجابی میں کہا تھا::: ہور اسیں شبراتے چالان لی بنایا ہے "" یعنی کہ اور اس بم کو ہم نے شب برات پر چلانے کے لیے بنایا ہے ہم چلا دیں گے تو جناب وہ شب برات کا انتظار نہ کریں اور دنیا کے ان کمزور مسلمانوں کی ایٹمی آواز بنے جو اپ کی ایٹمی پاور کی طرف دیکھ رہے ہیں
پاکستان زندہ باد افواج پاکستان پائندہ باد