بھارتی جنگی جنون اور ایٹمی پاکستان

سید منیر حسین گیلانی
 برصغیرمیں باہر سے آنے والی قوتوں نے ایک لمبا عرصہ یہاں حکمرانی کی ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں کے عوام مسلط حکومتوں کو گرا کر اپنے باسیوں کی حکومت کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔ سوری، مغل، تغلق اور رنجیت سنگھ کی حکومتیں یہاں قائم رہیں جبکہ آخر میں برطانوی سامرا ج ،جس کا پوری دنیا میںطوطی بولتا تھا نے بھی ظلم و ستم کے ذریعے لمبا عرصہ اپنا اقتدار برقرار رکھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکمران کمزور ہوئی تو برصغیر میں بھی ان کے خلاف آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ برطانوی حکومت نے آزادی برصغیر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے خلفشار کو ختم کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کردیا۔ اسی طرح ہندووں کے متعصبانہ اقدامات کی وجہ سے مسلمانوںکو اپنا وجود اور مذہب خطرے میں محسوس ہوا تو ان کے اندر بھی ’لا الہ الا اللہ ‘ © ©کی بنیاد پر ایک خود مختارمسلم مملکت کا جذبہ امڈ آیا تو پاکستان 1947ء میں معرض وجود میں آگیا۔ اس کے سرحدی اور نظریاتی خطوط بھی واضح کر دیے گئے۔یہ اسلام کے نام اور نظریات پر مشتمل نئی مملکت ہے،جس کے سرحدی تحفظ کی ذمہ داری افواج پر عائد ہوتی ہے۔ جبکہ نظریاتی سرحدوں کی ذمہ داری دینی طبقے کی ہے۔اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے21 تا24 جنوری 1951ء چار روزہ اجلاس میںسنی شیعہ اہل حدیث دیوبندی مکاتب فکر کے 31 علماء نے 22 نکات پر اتفاق کرکے اسلامی مملکت کے خدوخال پیش کردیے۔ مگر ایک مملکت جو اسلام کے نام پربنی سامراجی سازش کے تحت مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئی۔ خاص طور پر مارشل لاء حکومتوں کے دوران ہرمسلک نے مشترکہ میراث اسلام کی بجائے اپنے اپنے فرقے کا نقطہ نظر نمایاں کرنا شروع کردیا اور نئی تشریحات میں اپنے علاوہ کسی کو مسلمان سمجھنے سے گریزاںہونے لگے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں فرقہ واریت اور نفرت نے جگہ بنانا شروع کردی۔ میری توجہ اس پر نہیں کہ مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش کیوںبن گیا اور باقی ماندہ ملک انتشار کی اماجگاہ کیوں بن گیا۔ مجھے ان دنوں کے حالات کی طرف زیادہ دینے کی
 ضرورت محسوس ہورہی ہے کیونکہ افواج پاکستان اپنی ذمہ داری کو اپنے نوجوانوں کی شہادتوں کی صورت میں پیش کر رہی ہیں۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت ہماری سرحدوں کو پامال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
الحمدللہ !افواج پاکستان ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی اور آمادہ ہیں۔یہ بھی ایک خوشگوار حقیقت ہے کہ جب بھی ملکی سلامتی پر کوئی مشکل آن پڑی تو مختلف فرقوں اور برادریو ںمیں تقسیم قوم ہندوسامراج کے خلاف یکجا ہوئی اور سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ تمام مکاتب فکر کے علماء￿ ،دانشور ،صحافی، تاجر،صنعتکار اور سیاستدان یکسوئی کے ساتھ افواج پاکستان کی پشت پر کھڑے ہیں۔جب بھی کبھی ہندوستان نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو عوام نے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر اپنی فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لیا۔ مجھے وہ جو وقت یاد ہے کہ جب 1965ء کی جنگ شروع ہوئی توپاکستانی عوام خصوصا ًزندہ دلان لاہور نے فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ان دنوں میں نے عملی طور پر لاہور میں تنظیم شہری دفاع کے پلیٹ فارم سے اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کیا۔ گارڈن ٹاو ¿ن اور ماڈل ٹاو ¿ن کا علاقہ میری ذمہ داری میں تھا۔ہم نے جنگ میںL اورW شکل کی خندقیں بنائیں تاکہ کسی فضائی حملے کی صورت میں شہری محفوظ پناہ گاہ حاصل کرسکیں۔ میں پہلے وارڈن، پھر ہیڈ وارڈن اور ڈویڑنل ہیڈ وارڈن میاں اسحاق نرسری والے کے ساتھ ڈپٹی ڈویڑنل ہیڈ وارڈن بھی مقرر ہوا۔ اس دوران بھارتی جہازوں نے کی گولہ باری کی تو کلمہ چوک کے پاس بڑا گولہ بھی گرایا گیا ،جبکہ کوٹ لکھپت ریلوے اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا لیکن سول ڈیفنس کے جوانوں نے جواں مردی کے ساتھ عوام کو ذہنی طور پر خوفزدہ ہونے سے بچایا اور قومی تحفظ میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ اسی طرح افواج پاکستان کے جوان جہاں بارڈر پر جنگ لڑتے تھے تو لاہور کے جوان گوداموں سے اسلحہ نکال کر آرمی کے ٹرکوں میں لوڈ کر کے فوج کے مددگار بنتے رہے۔ ہندوستانی فوج نے شکرگڑھ کے علاقے میں آگے بڑھنے کی کوشش کی تو بارڈر کے دونوںا طراف بڑی جنگ ہوئی۔ اس میں ہمارے فوجی جوانوں نے سینے پر بم باندھ کربھارتی ٹینکوں کے آگے لیٹ کر انہیں تباہ کیا اور حملے کو روکا۔پھر قصور کی طرف دریائے ستلج کے کنارے ہندوستان کا بڑا رقبہ جو کہ کھیم کرن تک پھیلا ہوا تھا پاکستان نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ میں بذات خود سول ڈیفنس کے نوجوانوں کو لے کر کھیم کرن تک پہنچا۔ظاہر ہے جنگوں میں تباہی ہوتی ہے اور وہ ہم نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھی بھی۔لیکن ہم خود قوم کو کتنا بچا سکتے ہیں مد نظر رہنا چاہیے۔مجھے خوشی ہوئی کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سول ڈیفنس کے مرکز میں انتظامیہ کو کچھ احکامات جاری کرتے ہوئے ٹی وی پر دکھائی دیے۔
 اس واقعہ کو دیکھ کر 82 سال کا بزرگ منیرحسین گیلانی ، دفاع وطن کے لیے آج بھی اسی جذبہ کے ساتھ تیار ہے۔میں کوئی بڑی بات نہ کہتے ہوئے عاجزی سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی عمرقد اور بڑھاپے کی صورت میں ہمہ وقت تیار آمادہ ہوں۔ میں شکر گزار ہوں تمام مکاتب فکر کے علماء اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کا کہ وہ ہندوستان کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ اور یکسو ہیں اور قوم میں جذبہ حب الوطنی پیدا کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کو بنیاد بنا کر گجرات کے قصائی نریندر مودی اپنی بری خصلت سے باز نہیں آ رہا، حالانکہ اب تک ہندوستان کوئی بھی ثبوت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے واقعہ میں شمولیت کا پیش نہیں کر سکا جبکہ دوسری طرف ایران اورسعودی عرب نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کروانے کی پیش بھی کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اچھے جذبات کا اظہار کیا ہے لیکن سب سے بڑی بات چین کی طرف سے دوستی کے عز م کا اظہار ہے، کہ اس نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑاہے۔ ہندوستانی میڈیا کا کردار انتہائی بھیانک ہے جو جنگ کا ماحول بنانے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔اسی طرح سے کشمیری عوام کا رد عمل جب بھارتی میڈیا لینا شروع کرتا ہے تو اپنے مطلب کی بات نہ پا کر مایوس ہوجاتا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے پاکستان کا پانی روکنے کے لئے کسی بھی ڈھانچے کی تعمیر کو تباہ کرنے کا اعلان بھی قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کے لئے سفارتی رابطے بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔ افغانستان نے بھی پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ خو ش آئند ہے۔ لیکن ساتھ کس حدتک دیتا ہے یہ بعد کی بات ہے۔ ہم انشاء اللہ توقع رکھتے ہیں کہ قوم کے تعاون کے ساتھ افواج پاکستان یہ جنگ جیتیں گے اور اب تک کا ماحول بتا رہا ہے کہ پاکستان نفسیاتی حوالے سے اپنا ماحول بنانے اور اپنا کیس عالمی سطح پر لے جانے میں کامیاب ہوا ہے۔
 ہماری دعائیں اپنی افواج کے ساتھ ہیں۔ ایک بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ کسی صورت ہونی چاہیے لیکن ایٹمی قوت کو جب للکاریں گے اور جھوٹے الزامات لگائیںگے تو ایٹمی ہتھیار ہم نے بھی کوئی شوکیس میں سجانے کے لیے نہیں ،بلکہ اپنے دفاع کے لیے رکھے ہیں۔ جب کبھی اپنے وطن کی سالمیت اور وجود کو خطرہ ہوا تو ہم یقینا اپنے ایٹمی اثاثے استعمال کریں گے۔یہاںمجھے بہت یاد آرہے ہیں ذوالفقار علی بھٹو شہید جنہوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، بے نظیر بھٹو شہید جنہوں نے میزائل سسٹم کو مضبوط کیا اور سب سے بڑھ کر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان رحمتہ اللہ علیہ کہ جنہوں نے اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن مرحوم کے توسط سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ وہ کس طریقے سے ایٹم بم بنا سکتے ہیں۔جب ایٹم بم پاکستان نے بنایاتواس میں بہت تسلسل اور رازداری رہی، چاہے پاکستان میں مختلف حکومتیں آئیں لیکن ہر حکومت نے ایٹمی پروگرا م کو جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شخصیات کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے کہ جن کے مخلصانہ کردار کی وجہ سے آج ہم فخر کے ساتھ سر اٹھا کر چل سکتے ہیں کہ ہم ایک ناقابل تسخیر پاکستان کے باسی ہیں۔