محمد ندیم بھٹی
بین الاقوامی سیاست میں بعض ریاستیں اپنی وقتی مفاد پرستی اور چالاکی کے باعث نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ دوستی کے نقاب میں دشمنی کو فروغ دیتی ہیں۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ھے کہ یہ ملک اپنے اردگرد کی ریاستوں کے ساتھ نہ تو وفاداری کا دم بھرتا ھے، نہ ہی مستقل مزاجی سے کوئی راستہ اپناتا ھے۔ اس کی پالیسی کا مرکز صرف یہی ھے کہ وقتی فائدہ حاصل کرو، چاھے اس کے لیے کسی پر وار کرنا پڑے یا کسی کا اعتماد توڑنا پڑے۔ ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات اس کی ایک بڑی مثال بن چکے ھیں، جہاں بظاہر اقتصادی شراکت داری، ثقافتی میل جول اور علاقائی تعاون کی باتیں کی گئیں، مگر پس پردہ ایک مکمل سازشی نیٹ ورک نے جنم لیا — جس کا مرکزی ستون بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW اور اسرائیل کی بدنام زمانہ ایجنسی MOSSAD کا گٹھ جوڑ ھے۔
ایران نے مشکل ترین حالات میں بھی بھارت پر اعتماد کیا۔ چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر، تیل کی درآمد، اور دیگر تجارتی منصوبوں میں بھارت کو فوقیت دی گئی، جب کہ یہی بھارت مغرب کے دباؤ کے باوجود ایران سے دوستی کے راگ الاپتا رھا۔ مگر حالیہ انکشافات اور رپورٹس نے ثابت کر دیا ھے کہ یہ سب محض دکھاوا تھا۔ حقیقت یہ ھے کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے حساس دفاعی اور سائنسی نظام کے خلاف نہ صرف معلومات اکٹھی کرتا رھا بلکہ کچھ کیسز میں تخریبی کارروائیوں میں بھی شریک رھا۔ یہ سب کچھ دوستی کے پردے میں دشمنی کا ایک دوہرا وار تھا، جس کا نشانہ صرف ایران نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا ھے۔
اسرائیل کو ایران کی عسکری طاقت اور اس کی نظریاتی حیثیت سے ہمیشہ خطرہ رھا ھے۔ ایران نے فلسطینی کاز کو ہمیشہ اولیت دی، حزب اللہ، حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی سیاسی اخلاقی حمایت جاری رکھی۔ یہ سب اسرائیل کے لیے ناقابلِ قبول ھے۔ اسی لیے اسرائیل نے بھارت جیسے ریاستی اتحادی کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف خفیہ اتحاد تشکیل دیا — جہاں RAW، MOSSAD کی معاون بن کر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتی رھی۔ کچھ رپورٹس کے مطابق بھارت کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ایران کے اندر جاسوسی کا مرکز بنا دیا گیا تھا، جہاں سے حساس معلومات اسرائیل تک پہنچائی جاتی تھیں۔
یہ صرف مفروضے یا افواہیں نہیں بلکہ بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور تحقیقاتی رپورٹس میں بتایا گیا ھے کہ ایران میں ہونے والی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ، حساس تنصیبات کی جاسوسی اور داخلی انتشار پیدا کرنے والی کارروائیوں میں MOSSAD کے ساتھ RAW کا بھی فعال کردار رھا۔ یہ سب اس "دوہرے وار" کا عملی مظہر تھا جو ایک طرف دوستی کا لبادہ اوڑھے تھا اور دوسری طرف مہلک سازشیں بْن رہا تھا۔ یہ وہ طرزِ عمل ھے جسے عالمی سطح پر نہ صرف اخلاقی گراوٹ سمجھا جاتا ھے بلکہ سفارتی اصولوں کی شدید خلاف ورزی بھی۔
بھارت کا اسرائیل کے ساتھ بڑھتا ہوا تعلق کوئی راز نہیں۔ نریندر مودی کی حکومت کے آغاز کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی، اور زراعت سمیت کئی شعبوں میں درجنوں معاہدے ہو چکے ھیں۔ بھارت نے اسرائیل سے وہ مہارت سیکھ لی ھے جو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ھے۔ اب یہ دو قوتیں — ایک مشرق وسطیٰ میں اور دوسری جنوبی ایشیا میں — ایک ایسے شیطانی اتحاد کی شکل اختیار کر چکی ھیں جو مسلم دنیا کو کمزور کرنے پر تْلا ہوا ھے۔
اس "دوہرے وار" کا سب سے خطرناک پہلو یہ ھے کہ ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان، شام، لبنان، فلسطین اور حتیٰ کہ ترکی جیسے ممالک بھی اس گٹھ جوڑ کا نشانہ بن رھے ھیں۔ بھارت اور اسرائیل دونوں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی آڑ میں مسلم دنیا کے طاقتور یا خودمختار ممالک کو اندر سے کمزور کرنے، ان کی قیادتوں کو متنازعہ بنانے، اور معاشی دباؤ کے ذریعے انہیں جھکانے کی کوشش کر رہے ھیں۔
ایران کی طرف سے اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ھے کہ بھارت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، مگر سوال یہ ھے کہ جس ملک نے دہائیوں پر مشتمل دوستی اور بھروسے کو اپنے وقتی مفادات کے لیے قربان کر دیا، کیا وہ واقعی توبہ کرے گا؟ نہیں! بھارت اب مکمل طور پر اسرائیلی کیمپ میں شامل ہو چکا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے اسٹریٹجک فیصلوں میں فوری تبدیلی لائے۔ چاہ بہار جیسے منصوبوں میں بھارت کی شراکت داری پر نظرثانی کی جائے، اور چین، ترکی، ملائشیا اور دیگر اسلامی و ایشیائی ممالک کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ بھارت کو اْس کی حیثیت کا اندازہ ہو سکے۔
پاکستان کو اس صورتحال میں خاموش تماشائی بننے کے بجائے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایران کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون، معلومات کا تبادلہ، اور سفارتی سطح پر ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ھے۔ پاکستان اور ایران دونوں بھارت اور اسرائیل کے اس "دوہرے وار" کا ہدف ھیں۔ اگر آج ہم نے اتحاد نہ کیا، تو کل ہم ایک ایک کر کے کمزور کیے جائیں گے۔
RAW اور MOSSAD کے نیٹ ورک اب صرف خفیہ ایجنسیوں تک محدود نہیں رھا۔ سوشل میڈیا، میڈیا ہاؤسز، تھنک ٹینکس، اور حتیٰ کہ این جی اوز بھی اس جنگ کا حصہ بن چکی ھیں۔ بھارت ایران کے خلاف جھوٹے بیانیے گھڑنے، اس کے ایٹمی پروگرام کو خطرناک ظاہر کرنے، اور اقوام متحدہ میں اسے تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ھے۔ یہ سب اسی دوہرے وار کی حکمت عملی کا حصہ ھے جس میں سامنے دوستی، اندر سے دشمنی چھپی ہوئی ھے۔
مسلم دنیا کو اب جاگ جانا چاہیے۔ محض مذمت اور علامتی احتجاج کافی نہیں۔ سفارتی سطح پر بھارت اور اسرائیل کی مداخلتوں کو بے نقاب کیا جائے، ان کے خلاف عالمی سطح پر اتحاد تشکیل دیا جائے، اور ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں جو خودمختاری، سالمیت اور نظریاتی تحفظ کی ضامن ھوں۔
دوستی کا دعویدار جب دشمن کے ساتھ ہاتھ ملا لے، تو یہ لمحہ فکریہ نہیں، لمحہِ عمل ہوتا ھے۔ ایران کو اب بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت
پر ازسرنو غور کرنا ہوگا، اور "دوہرا وار" اور معیار رکھنے والے چہروں کو واضح طور پر بے نقاب کرنا ہوگا۔