لاہور (زیڈ این این) لاہور ہائیکورٹ نے خفیہ شادی کی رنجش پر قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے قیدی مدثر کو ساڑھے چار سال بعد بری کر دیا۔ جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مجرم کی اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔مدثر پر الزام تھا کہ اُس نے تھانہ صدر عارف والا کی حدود میں شہری صفدر علی کو خفیہ شادی کی رنجش پر قتل کیا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے شواہد کے فقدان اور وجہ عناد کے غیر واضح ہونے پر مجرم مدثر کو بری کرنے کا حکم دے دیا، جس سے وہ ساڑھے چار سال بعد رہائی پا گیا۔