لاہور کا پانی ویسٹ فری بنانے کا منصوبہ — حکومت کا راوی میں آلودگی روکنے کے لیے سمارٹ واٹر مینجمنٹ پلانٹس لگانے کا فیصلہ

لاہور کا پانی ویسٹ فری بنانے کا منصوبہ — حکومت کا راوی میں آلودگی روکنے کے لیے سمارٹ واٹر مینجمنٹ پلانٹس لگانے کا فیصلہ

حکومت پنجاب نے راوی دریا میں آلودہ پانی کی روک تھام اور لاہور کا پانی مکمل طور پر ویسٹ فری بنانے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔

 اس سلسلے میں لاہور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبوں پر سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں سمارٹ واٹر مینجمنٹ پلانٹس لگانے کا باقاعدہ فیصلہ کیا گیا۔

شہر کے 6 آؤٹ فال پوائنٹس پر پلانٹس تجویز
اجلاس میں ایم ڈی واسا، غفران احمد نے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی، جس کے مطابق:لاہور کے 6 آؤٹ فال مقامات پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس تجویز کیے گئے ہیں۔پہلے مرحلے میں بابو صابو اور کٹار بند مقامات پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔
منصوبوں کی لاگت اور فنڈنگ
بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی متوقع لاگت: 60 ارب روپے
کٹار بند پلانٹ کی متوقع لاگت: 23 ارب روپے
دونوں منصوبے غیر ملکی ڈونر اداروں کی فنڈنگ سے مکمل کیے جائیں گے۔
پانی زرعی استعمال کے لیے قابلِ عمل ہوگا
سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے اجلاس میں کہا کہ:"تمام ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے بننے سے لاہور کا پانی قابل استعمال ہو جائے گا، اور سیوریج کا پانی راوی یا نہروں میں ڈالنے کے بجائے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔"
راوی میں آلودگی پر قابو پانے کا فیصلہ کن قدم
یہ اقدام راوی کے ماحولیاتی تحفظ، زیرزمین پانی کے تحفظ اور زرعی خودکفالت کی جانب اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل سے:لاہور میں سیوریج پانی کو فوری اور مؤثر طریقے سے ٹریٹ کیا جا سکے گا۔دریا میں براہِ راست آلودہ پانی کے اخراج کا سلسلہ بند ہو گا۔زرعی شعبے کو معیاری پانی کی فراہمی ممکن بنے گی۔