پنجاب حکومت فوری گندم کی قیمت مقرر کرے‘کسانوں کے مفادات کو اولیت دی جائے( لاہور ہائی کورٹ)

 کسان ملک کی  معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،  ان کے مفادات کا تحفظ حکومت کی   آئینی و قانونی ذمہ داری ہے
مستقبل میں اس طرح کے اہم امور میں تاخیر نہ کی جائے ‘کسانوں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ دیا جائے :جسٹس خالد اسحاق کا حکم

لاہور (زیڈ این این) لاہور ہائیکورٹ نے گندم کی قیمت مقرر نہ کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے  وہ گندم کی قیمت کے تعین کے حوالے سے موجودہ قانون پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ یہ فیصلہ جسٹس خالد اسحاق نے صدر کسان بورڈ ظفر حسین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سنایا۔درخواست میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت کا تعین نہیں کیا، جس کی وجہ سے کسان طبقہ شدید مالی نقصان کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فصل تیار ہونے کے باوجود قیمت مقرر نہ ہونے سے کسان منڈی میں استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔درخواست 8 اپریل 2025 کو دائر کی گئی تھی، جبکہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے تمام فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو اب سنایا گیا ہے۔ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا  کسان ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کے مفادات کا تحفظ حکومت کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔عدالت نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ گندم کی امدادی قیمت کا فوری تعین کیا جائے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ مل سکے اور زرعی معیشت کو درپیش خطرات سے بچایا جا سکے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مستقبل میں اس طرح کے اہم امور میں تاخیر نہ کی جائے اور کسانوں کے مفادات کو اولیت دی جائے۔