لاہورہائیکورٹ ، بسنت کی اجازت کےقانون کیخلاف درخواستوں پر سماعت,ڈپٹی کمشنر لاہورطلب

لاہورہائیکورٹ ، بسنت کی اجازت کےقانون کیخلاف درخواستوں پر سماعت,ڈپٹی کمشنر لاہورطلب

لاہور ہائی کورٹ نے بسنت کے موقع پر حفاظتی اقدامات پر مکمل عمل درآمد کروانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

 عدالت کے سامنے کیس کی سماعت جسٹس ملک محمد اویس خالد نے کی۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز کو 28 جنوری کو پیش ہونے کا حکم دیا اور بسنت کے دوران آگاہی مہم کے لیے ڈی جی پر اور سکولز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو بھی طلب کیا۔سپیشل سیکریٹری ہوم فضل الرحمان نے عدالت کو بتایا کہ بسنت کے حوالے سے تشکیل دی گئی کمیٹی کا اجلاس 27 جنوری کو ہوگا اور آئندہ سماعت پر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بسنت کے دوران کوئی حادثہ نہیں ہونا چاہیے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔مزید بتایا گیا کہ گزشتہ دس سال کے ڈیٹا کے مطابق لاہور کو ریڈ، ییلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکلوں پر راڈ لگانے کے لیے فنڈز جاری ہوچکے ہیں۔ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے میڈیکل کیمپس اور ایمرجنسی ڈاکٹرز کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

 حادثات کے لیے ڈبل ون ڈبل ٹو موبائل کلینکس اور 70 کلینک آن ویلز تعینات ہوں گے، جو یکم مارچ سے فعال ہوں گے کیونکہ بسنت 6، 7 اور 8 مارچ کو منائی جائے گی۔عدالت نے حکم دیا کہ چھوٹے بچوں پر مقدمات نہیں بنائے جائیں بلکہ صرف جرمانہ کیا جائے اور خستہ حال عمارتوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ خطرناک دھاگے کی آمد کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔سپیشل سیکریٹری ہوم نے مزید بتایا کہ بسنت صرف لاہور میں منائی جائے گی جبکہ پنجاب کے دیگر شہروں میں پابندی ہوگی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔