حافظ عبدالغفار روپڑی
برصغیر کی زمین، جس پر صدیوں کی محنت، قربانی اور جذبے کی تہہ جمی ہے، آج بھی دو ایسی ریاستوں پاکستان اور بنگلہ دیش کی یاد دلاتی ہے جو جغرافیائی فاصلے کے باوجود دلوں اور روحوں میں قریب ہیں۔ یہ رشتہ محض سرحدوں ، جغرافیہ یا سیاسی خطوط کا نہیں، بلکہ ایک مشترکہ شعور، ایمان اور تہذیب کا رشتہ ہے۔ جیسے درخت کی جڑیں زیر زمین ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں، ویسے ہی پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخ، دین اور ثقافت کی جڑیں گہری اور اٹوٹ ہیں۔ یہ تعلق ایک ایسی داستان ہے جو صدیوں کی قربانیوں، امیدوں اور جذبات کی ا?ئینہ دار ہے اور ہر لفظ میں محبت و عقیدت کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔
تحریکِ پاکستان کے دنوں میں بنگال کے مسلمان، جن کی آنکھوں میں خوابِ آزادی کی روشنی تھی۔۔۔۔اپنا رشتہ قیام پاکستان کے ساتھ جوڑا اور۔۔۔۔۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی بصیرت افروز قیادت پر بے پناہ اعتماد کا اظہار کیا۔ 1940ء کی قراردادِ لاہور میں بنگال کی قیادت کی جدوجہد ایک ایسی حقیقت ہے جو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کیلئے لکھی جاچکی ہے۔ بنگالی مسلمانوں کی قربانیاں ایک ایسا چراغ ہیں جو صدیوں بعد بھی دلوں میں روشنی بھرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ آزادی کبھی خالی دعووں اور نعروں سے نہیں ملتی بلکہ خون و حوصلے کے لمس ، بے پناہ جدو جہد اور حوصلے سے پیدا ہوتی ہے۔
1946ء کے انتخابات میں بنگال کے مسلمانوں نے ا?ل انڈیا مسلم لیگ کو واضح مینڈیٹ دے کر ثابت کیا کہ وہ عزم و اتحاد کا سمندر ہیں۔ گلیوں میں جلسے، دیہاتوں میں جلوس اور کسان و مزدور کی انتھک محنت ایک ایسی داستان سناتی ہے جو ہر دل کو جھنجوڑ دیتی ہے۔ یہ قربانیاں محض سیاست کا حصہ نہیں تھیں بلکہ ایک روحانی اور فکری مشعل تھیں جس نے بر صغیر کے ہر مسلمان کو اپنی شناخت، اپنے دین، اپنے حق اور علیحدہ وطن کے قیام کیلئے اٹھ کھڑے ہونے اور تاج برطانیہ سے ٹکرا جانے کا حوصلہ دیا۔ بنگال کی زمیں اور گلیاں آج بھی ان قربانیوں کی گواہ ہیں اور ہوا ئوں میں ان محفلوں اور مجلسوں کی صدا ئیں اب بھی گونجتی محسوس ہوتی ہیں۔
اگرچہ جغرافیائی اعتبار سے دونوں خطوں کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل تھی لیکن دینی اعتبار سے، دونوں ممالک کی روح ایک ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات و مٹھاس ، اسلامی تہواروں کی خوشیاں اور کلمہ طیبہ کا رشتہ آج بھی دلوں کو ایک ہی دھڑکن میں باندھتا اور یک دل ویک جان کرتا ہے۔ چاہے ڈھاکہ کی مساجد ہوں یا لاہور کی درسگاہیں۔۔۔۔دونوں جگہ اذان کی صدا ایک ہی پیغام دیتی ہے یعنی۔۔۔۔۔وحدتِ امت محبت و انسانیت، اور بھائی چارے کا پیغام۔ یہ صدا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین کی سرحدیں دلوں کی سرحدیں نہیں روک سکتیں۔ ہر عید کی خوشبو، کلمہ طیبہ کا رشتہ ، ہر روزہ کے افطار کی خوشی ایک دوسرے کے دلوں سے جڑی ہوئی ہے اور یہ رشتہ انسانی تعلقات کی سب سے خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔
1971ء کا سانحہ ایک ایسا زخم تھا جس نے دلوں کو چیر دیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی محض داخلی کمزوریوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ بھارت کی سفارتی سازشوں، عسکری مداخلت اور مقامی فساد نے اس درد کو ہوا دی۔ لاکھوں جانوں، زمینوں اور خوابوں کا سودا ہوا۔ مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ زخم کے بعد بھی امید کے پھول کھل سکتے ہیں۔ ہر شکست میں چھپی ہوئی حکمت، ہر رنج میں چھپی ہوئی طاقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کی روح کبھی مانند نہیں پڑتی اور امید بہار ہو تو چمن میں امید کے پھول کسی وقت میں مسکرا سکتے ہیں۔
اس کے بعد چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ پاکستان کو دولخت کرنے والا شیخ مجیب الرحمن اپنے ہی گھر میں اور اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں نشان عبرت بنا۔ شیخ مجیب کی عبرت ناک موت کے بعد بنگلہ دیش میں جنرل ضیاء الرحمن برسراقتدار ا?ئے تو ان کا دور امید کی ایک نئی کرن بن کر طلوع ہوا۔ انہوں نے تلخ ماضی کو بارِ گراں کے طور پر نہیں لیا بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مستقبل کی تعمیر کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو نہ صرف سیاسی ضرورت بلکہ خطے میں امن اور اقتصادی ترقی کے ضامن کے طور پر دیکھا۔ او آئی سی اور اسلامی دنیا کے پلیٹ فارمز پر تعاون نے یہ ثابت کیا کہ مفادات اور حکمت کے پل دشمنی سے مضبوط تر ہوتے ہیں۔دوسری طرف پاکستان میں جنرل ضیاء الحق شہید کے اقدامات ایک ایسے فن پارے کی مانند ہیں جس میں صبر، تدبر اور بصیرت کی رنگت جھلکتی ہے۔ یہ اقدامات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ’’ نظریہ پاکستان ‘‘ صدا بہار نظریہ ہے۔
بنگلہ دیش میں ایک بار پھر حالات نے پلٹا کھایا شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد اقتدار میں ا?گئی۔ حسینہ واجد کے آمرانہ طرزِ حکمرانی، سیاسی انتقام ، پاکستان دشمن اور بھارت نواز پالیسیوں کو غیور وجسور بنگالی عوام نے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جس وجہ سے پورا بنگلہ دیش ایک بار پھر دھکتا ہوا ا?لائو بن گیا۔ جماعت اسلامی کے بہت سے بزرگ رہنما تختہ دار پر لٹکا دیے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کے خلاف مسلسل انتقامی اقدامات نے حسینہ واجد کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ حسینہ واجد کے خلاف اندر ہی اندر جو لاوا ابل رہا تھا وہ پھٹ پڑا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی جہاں سے شیخ مجیب نے پاکستان کو توڑنے کی تحریک کی بنیاد رکھی تھی اسی یونیورسٹی سے ایک بار پھر طلبہ کی تحریک شعلہ جوالا بن کر اٹھی جس میں حسینہ واجد کا ا قتدار خس وخاشاک کی طرح جل گیا۔ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں بننے والی نئی حکومت نے سیاسی ترتیب، اعتدال، شفافیت اور متوازن خارجہ پالیسی کو فروغ دیا۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہترہوئے۔اس کے بعد نئے انتخابات ہوئے جن میں جنرل ضیاء الرحمن کی جماعت نے واضح برتری حاصل کی دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی رہی۔ وزیرِ اعظم خالد رحمان کی حلف برداری پر پاکستانی وفد کو خصوصی دعوت دی گئی۔جب پاکستانی وفد ڈھاکہ کی سرزمین پر اترا تو بنگالی عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان یک دل ویک جان ہیں۔
تعلیمی میدان میں جامعات کے درمیان تعاون، طلبہ کے تبادلے اور تحقیقی منصوبے نئی امید کی مانند ہیں۔ یہ تعلقات نہ صرف علم و دانش کا پل ہیں بلکہ نئی نسل کو ماضی کے بوجھ سے آزاد کر کے ترقی اور امن کے راستے پر گامزن کرتے ہیں۔ یہاں ہر تحقیقی مقالہ، ہر تعلیمی اجلاس، ہر علمی تبادلہ ایک نئی داستان کا آغاز ہے، جو مستقبل کے روشن افق کی طرف لے جاتا ہے۔دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری سطح پر بھی ہونے والی پیش رفت بھی بہت مثبت اور حوصلہ افزا ہے : دفاعی مکالمے، تربیتی تعاون اور علاقائی سلامتی پر بات چیت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو ممکنہ شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ رجحان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ حکمت، تعلقات اور اعتماد میں بھی ہے۔ ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان یہ پل صرف سرکاری روابط نہیں بلکہ اعتماد، امن اور باہمی احترام کے ستون ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دشمنی مستقل نہیں، بلکہ حکمت، مفاد اور شرافت مستقل ہوتے ہیں۔ اگر یہ فضا برقرار رہے تو آنے والا وقت تعلقات کی بحالی کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون، علمی ترقی اور خطے کے استحکام کا ایک روشن باب بن سکتا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کا یہ تعلق نہ صرف سیاسی حقیقت ہے بلکہ دینی ، روحانی اور انسانی داستان بھی ہے۔ یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن اور محبت کی فصل کبھی مرجھا نہیں سکتی دونوں برادر ممالک کے درمیان کلمہ طیبہ کا رشتہ ا?ج بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ رشتہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ وطن صرف زمین نہیں، بلکہ دلوں کی سرزمین بھی ہے، جہاں قربانی، امید اور اتحاد کا چراغ ہمیشہ روشن رہتا ہے۔