کراچی کے علاقے منظور کالونی میں آتشزدگی کے واقعے کا راز کھل گیا ہے، جس کے مطابق گھر کے مالک ظفر لئیق نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خود کو آگ لگا لی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا سوتیلا بیٹا اعظم زخمی ہو گیا۔
بلوچ کالونی پولیس کے مطابق، 67 سالہ ظفر لئیق نے گھریلو حالات اور مالی مشکلات کے باعث دلبرداشتہ ہو کر کیمیکل چھڑک کر خود کو آگ لگائی۔ پولیس نے بتایا کہ آتشزدگی کے دوران اعظم نے اپنے سوتیلے والد کو بچانے کی کوشش کی، جس کے دوران وہ جھلس کر زخمی ہوگیا۔پولیس تحقیقات کے مطابق، ظفر لئیق نے سات سال قبل بیوہ خاتون سے شادی کی تھی، جس کے پہلے شوہر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی اس کے ساتھ رہتے تھے۔ ظفر کی مالی حالت خراب ہونے کے باعث وہ گزشتہ کئی ماہ سے گھر کا کرایہ ادا نہیں کر پا رہے تھے، اور حال ہی میں ان پر بجلی کا ایک لاکھ 75 ہزار روپے کا بل آیا تھا، جس کے باعث گھریلو حالات مزید خراب ہو گئے تھے۔واقعے کے روز، جب خاتون نے شوہر سے سودا سلف لانے کا کہا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اور اس کے بعد ظفر نے کمرہ بند کر لیا۔ کچھ دیر بعد کمرے سے آگ کی لپٹیں محسوس ہوئیں، اور جب دروازہ توڑا گیا تو ظفر کی لاش جل چکی تھی۔پولیس نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔